Wednesday, December 11, 2013

Wakeel bhe Khush

تین نومبر سنہ 2007 میں پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری کی چیف جسٹس کے عہدے پر اور اعلیٰ عدلیہ کے دیگر ججوں کو بحال کروانے کے لیے چلنے والی تحریک کے کرتا دھرتا افراد شاید افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ پر اُتنی ہی خوشی محسوس کر رہے ہیں جتنی اُنھیں 16 مارچ سنہ 2009 کو افتخار محمد چوہدری کی بطور چیف جسٹس بحالی پر ہوئی تھی۔
اس عرصے میں وکلا تحریک کے سرکردہ رہنما چیف جسٹس سے دور ہوتےگئے۔ شاید اس کی وجہ افتخار محمد چوہدری کے ایسے اقدامات ہیں جن پران رہنماؤں کو تحفظات تھے۔
اُن رہنماؤں میں چوہدری اعتزاز احسن، علی احمد کُرد، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، سردار لطیف کھوسہ شامل ہیں۔ دوسری جانب منیر اے ملک اور حامد خان کے نام افتخار محمد چوہدری کے حمایتی گروپ کے طور پر لیے جاتے ہیں۔
سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کا شمار اُن افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے ججز بحالی کے لیے وکلا تحریک میں سب سے پہلے اپنا خون دیا۔ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر وکلا کے مظاہرے کے دوران پولیس نے جن کے سر پر سب سے پہلے لاٹھی برسائی وہ سردار لطیف کھوسہ تھے۔
سردار لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ وکلا نے جس مقصد کے لیے عدلیہ بحالی کی تحریک شروع کی تھی وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس تحریک کا مقصد افتخار محمد چوہدری کی ذات کی بحالی نہیں بلکہ عدلیہ کو خود مختار بنانا تھا اور خاص طور پر ضلعی عدالتیں جہاں پر لوگ آج بھی انصاف کے حصول کے لیے آتے ہیں جہاں پرانھیں اپنا حق لینے کے لیے سالوں بیت جاتے ہیں۔

’تحریک کا مقصد پورا نہیں ہوا‘


سردار لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ وکلا نے جس مقصد کے لیے عدلیہ بحالی کی تحریک شروع کی تھی وہ مقصد شاید پورا نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس تحریک کا مقصد افتخار محمد چوہدری کی ذات کی بحالی نہیں بلکہ عدلیہ کو خود مختار بنانا تھا اور خاص طور پر ضلعی عدالتیں جہاں پر لوگ آج بھی انصاف کے حصول کے لیے آتے ہیں جہاں پر اُنھیں اپنا حق لینے کے لیے برسوں بیت جاتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری نے اس عرصے کے دوران جتنا وقت از خود نوٹس لینے اور ریاست کے دیگر اداروں کے امور میں مداخلت میں صرف کیا اتنا وقت وہ ضلعی عدالتوں میں اصلاحات پر صرف کرتے تو شاید آج صورت حال مختلف ہوتی۔
اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2007 کی تحریک کے بعد بحال ہونے والی اعلیٰ عدلیہ گذشتہ ادوار سے بہتر ضرور ہے لیکن اس کے اثرات نچلی عدالتوں تک نہیں پہنچے۔
سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ افتخار محمد چوہدری نے ایسے معاملات پر از خود نوٹس لیے یا ایسے مقدمات کی سماعت کی جن کی وجہ سے وہ مقامی میڈیا پر چھائے رہے اور شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جس دن اُن کا بیان یا اُن کے ریمارکس پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت نہ بنے ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ انھیں وکلا تحریک کا رہنما ہونے پر تو کوئی افسوس نہیں ہے البتہ مایوسی ضرور ہوئی کہ جس مقصد کے لیے اس تحریک کا آغاز ہوا تھا اُس کے ثمرات ابھی تک سامنے نہیں آئے۔
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کہتے ہیں کہانھوں نے اُس وقت چیف جسٹس کی پالیسیوں سے اختلاف کیا اور اُن پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جب عدالت عظمیٰ نے پارلیمنٹ اور انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا شروع کی۔
اُنھوں نے کہا کہ اس مخالفت کی وجہ سےانھیں مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا کیونکہ جب اُن کے موکلوں کو یہ احساس ہوا کہ طارق محمود چیف جسٹس کی پالیسیوں سے اختلاف ہے توانھوں نے مقدمات واپس لے لیے۔
علی احمد کُرد بھی اُن وکلا میں شامل ہیں جنھوں نے اس تحریک میں چیف جسٹس کی بحالی کے لیے کارواں کی لمحوں کی مسافت کو گھنٹوں اور پھر دنوں میں طے کیا لیکن افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد وہ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
خاصے عرصے تک گوشہ نشینی اختیار کرنے کے بعد افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ قبل وہ منظر عام پر آئے ہیں۔
چیف جسٹس کے حمایتی وکلا کے گروپ سے علیحدگی کے سوال پر وہ کُھل کر بات نہیں کر رہے۔ تاہم یہ وہ ضرور کہتے ہیں کہ جس مقصد کے لیے اُنھوں نے لاٹھیاں کھائیں اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں وہ رائیگاں چلی گئیں اور آج بھی لوگ انصاف کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

’در بدر کی ٹھوکریں‘

چیف جسٹس کے وکلا حمایتی گروپ سے علیحدگی کے سوال پر علی احمد کرد کُھل کر بات نہیں کر رہے تاہم یہ وہ ضرور کہتے ہیں کہ جس مقصد کے لیے اُنھوں نے لاٹھیاں کھائیں اور قید وبند کی صحبتیں برداشت کیں وہ رائیگاں چلی گئیں اور آج بھی لوگ انصاف کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وکلا نے عدلیہ بحالی کی تحریک افتخار محمد چوہدری کے لیے نہیں بلکہ عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے شروع کی تھی جس کا حصول آج تک ممکن نہیں ہوا۔
علی احمد کُرد شاید 11 دسمبر کے بعد اس معاملے پر کُھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرسکیں گے جب افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
16 مارچ 2009 کو افتخار محمد چوہدری کی چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد وکلا دو حصوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں، ایک گروپ چیف جسٹس کا حمایتی اور دوسرا اُن کا مخالف ہے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر جیسے وکلا کے سرکردہ رہنما بھی چیف جسٹس کے مخالف گروپ کا حصہ نظر آتے ہیں۔ ان وکلا رہنماؤں نے بھی اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کو تعینات کرنے کے لیے نام تجویز کرنے کے چیف جسٹس کے اختیار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے دیگر ارکان کو بھی نام تجویز دینے کا اختیار ہونا چاہیے۔
افتخار محمد چوہدری کی عہدے پر بحالی کے بعد اُن کا حمایتی سمجھا جانے والا وکلا کا گروپ مسلسل چار سال سے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں شکست کا سامنا کر رہا ہے۔
چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر چاروں صوبوں کی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنوں اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اُن کے اعزاز میں الوداعی تقریبات کا بھی اہتمام نہیں کیا۔
افتخار محمد چوہدری کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے وکلا گروپ کے چند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ردِعمل افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد دیں گے۔

Post a Comment