Wednesday, December 11, 2013

Chalen Ab Adliya ko Theek Kar Len...

اچھا جی افتخار چوہدری سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔ ویسے پاکستان میں اب تک چوہدری صاحب سمیت جو 20 چیف جسٹس آئے ان میں سے کس کس سے کتنی اور کون کون سی امیدیں پوری ہوئیں؟
یہ ٹھیک ہے کہ چیف صاحب کی سپریم کورٹ نے زیادہ تر ایسے ہائی پروفائل کیسز پر توجہ دی جن سے میڈیائی شہ سرخیاں نکلیں۔ تو کیا یہ کیسز صرف اس لیے چھوڑ دینے چاہییے تھے کہ ججوں کے سات پردوں میں رہنے کی کلاسیکی روایت پر ضرّب نہ لگے؟
ہاں ایک دور تھا جب جج بھی گھونگٹ نکال کے بیٹھتے تھے اور عدالتی اوقاتِ کار کے بعد سماجی لحاظ سے راہبانہ زندگی گزارتے تھے۔ ایسے جج پسند کیے جاتے تھے جو خود نہ بولیں، بس ان کے فیصلے بولیں۔
پر یہ تب کی بات ہے جب ہماری دادیاں اور امیّاں بھی پردہ کرتی تھیں۔ چھوٹے بڑوں کے سامنے بغیر ٹوپی کے نہیں آتے تھے اور حدِ ادب میں سلام تک کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ شادی شدہ بیٹا اپنے باپ کے سامنے اپنے بچے کو گود میں لیتے ہوئے شرم محسوس کرتا تھا۔ ریستوران میں بیٹھنے کو لفنگا پن سمجھا جاتا تھا اور مہمان کو گھر کے بجائے ہوٹل میں کھانا کھلا دو تو وہ ناراض ہوجاتا تھا۔
وقت کے ساتھ سب بدل گیا، حتی کہ لاؤڈ سپیکر کو شیطانی آلہ سمجھ کر دور بھاگنے والا مولوی بھی اوپر نیچے اندر باہر سے بدل گیا۔ مگر خواہش ہماری آج بھی یہی ہے کہ جج کلاسیکی ہی رہے۔ وکٹورین اور ایڈورڈین دور کے جج کی طرح۔۔۔ کیوں جی؟
تو کیا آپ کو آٹھ سال نوماہ اٹھارہ دن چیف جسٹس آف پاکستان رہنے والے جسٹس اے آر کارنیلئیس کے افکار اور فیصلے یاد ہیں؟

میڈل آف فریڈم

افتخار محمد چوہدری بھی انھی ججوں میں شامل تھے جنھوں نے مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اور ایک آمر کو آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت دی۔ لیکن انھوں نے ایسا کیا کِیا کہ ہارورڈ لا سکول نے انھیں نیلسن منڈیلا اور سول رائٹس کے ایفرو امریکن لیگل ایگل چارلس ہملٹن کے بعد تیسری ایسی شخصیت سمجھا جو میڈل آف فریڈم کی مستحق ٹھہری۔
انھوں نے تو پوری جوڈیشل زندگی ایک کلاسیکی جینٹل مین جج کی گزاری۔ ہوٹل فلیٹیز لاہور کے ایک کمرے میں انتقال ہوا۔
اچھا چیف جسٹں حمود الرحمان تو ضرور یاد ہوں گے؟ وہ تو آپ کی توقعات پر پورے اترے اور انہوں نے سقوطِ مشرقی پاکستان کی ایکسرے رپورٹ آپ کے حوالے کردی۔ تو کیا آپ بھی ان کی توقعات پر بال برابر بھی پورے اترے؟
اچھا جی افتخار محمد چوہدری بھی انھی ججوں میں شامل تھے جنہوں نے مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اور ایک آمر کو آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت دی۔ لیکن آگے بھی تو بتائیے کہ اسی افتخار چوہدری نے کیا کیا ایسا کِیا کہ ہارورڈ لا سکول نے انھیں نیلسن منڈیلا اور سول رائٹس کے ایفرو امریکن لیگل ایگل چارلس ہملٹن کے بعد تیسری ایسی شخصیت سمجھا جو میڈل آف فریڈم کی مستحق ٹھہری۔
آپ کو جسٹس منیر کا نظریۂ ضرورت تو یاد ہے جس نے مستقبل کے پاکستان میں آمریتوں کا دروازہ کھولا۔ لیکن 1953 کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد کی جسٹس منیر کمیشن رپورٹ کیوں یاد نہیں جس پر عمل درآمد ہوتا تو آج پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کا ببول شاید تا حدِ نگاہ نظر نہ آتا۔
اسی رپورٹ میں یہ لکھا تھا نا کہ جتنے بھی مکاتبِ فکر کے علما کمیشن کے سامنے شہادت کے لیے پیش ہوئے ان میں سے کوئی بھی اسلامی نظام کی جامع اور متفقہ تشریح نہ دے پایا۔
اچھا یہ بتائیے کہ ایوب خانی آمریت کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے جرات مند جسٹس رستم کیانی کی تقاریر اور تحریریں آپ کو کتنی یاد ہیں۔ کیا ان میں سے ایک بھی تحریر و تقریر اس قابل نہیں کہ اسے تعلیمی نصاب میں ہی ڈال دیا جاتا؟

سوموٹو نوٹس

جی اچھا۔۔۔ افتخار چوہدری کی سپریم کورٹ نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سوموٹو نوٹس لیے اور جوڈیشل ایکٹواِزم کا حد سے زیادہ مظاہرہ کیا اور جو کام پارلیمنٹ اور حکومتوں کے کرنے کے تھے ان پر بھی ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔
ظاہر ہے کہ ایک نارمل ملک اور نارمل سوسائٹی میں ایسا بالکل نہیں ہونا چاہییے اور ہر ادارے کو اپنی طے شدہ آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہییے، لیکن کیا واقعی یہ کوئی نارمل ملک اورسوسائٹی ہے؟ پیدائش کے وقت تو یقیناً تھا۔ لڑکپن بھی کم و بیش نارمل ہی گزرا مگر اس کے بعد ؟

’افتخار چوہدری سے پہلے کسی نے اتنا جوڈیشل ایکٹو ازم نہیں دکھایا‘
جہاں فوج ازخود فیصلہ کرلے کہ ملک کے حالات کب سیاستدانوں کے بس سے باہر ہوچکے ہیں۔ جہاں آرمی چیف کو ایک سیاسی حکومت طیارے سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے برطرف کردے، جہاں ایک جج یہ کہےکہ ہم نے بھٹو کی سزائے موت اس لیے برقرار رکھی کیونکہ ہم پر ناقابلِ برداشت دباؤ تھا، جہاں ایک چیف منسٹر یہ کہے کہ میں نے لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دینے والوں کی نم ناک آنکھوں کے لیے ٹشو پیپرز کا ٹرک بھجوا دیا ہے، جہاں حساس ادارے خود کو ماورائے آئین سمجھیں اور قانون نافذ کرنے کے لیے سب سے موثر ہتھیار لاقانونیت سمجھا جائے، جہاں ووٹوں سے منتخب حکومتیں خون چوس کارٹیلز اور تجارتی مافیاؤں کی فرنٹ کمپنیاں بن جائیں وہاں کون سا آئینی دائرہ اور کیسی طے شدہ حدود؟
دنیا میں جہاں جہاں بھی حکومتیں اپنے قومی و عوامی فرائض تن دہی سے نبھا رہی ہیں وہاں آپ نے کبھی یہ شکوہ سنا ہے کہ عدلیہ اپنی چادر سے پاؤں باہر نکال رہی ہے۔ درست ہے کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے اور قانون کی تشریح عدلیہ کا۔ مگر قانون سازوں کی تعلیمی ڈگریاں اور شہریت بھی تو ٹرانسپیرنٹ ہو ورنہ احتساب اور ٹرانسپیرنیسی سے متعلق قانون سازی کی اپنی کیا اوقات رہ جائے گی؟

جوڈیشل ایکٹو ازم

اچھا جی۔ افتخار چوہدری سے پہلے کسی نے اتنا جوڈیشل ایکٹو ازم نہیں دکھایا۔ کیوں؟ کیا اس لیے کہ حکومتیں گڈ گورننس کے حساب میں اپنے بنیادی فرائض نبھا رہی تھیں یا اس لیے کہ جج یہ سمجھ رہے تھے کہ سانوں کی، خصماں نوں کھان۔۔۔
ہاں بظاہر اتنی جوڈیشل دھواں دھاری کے باوجود انصاف آج بھی بکتا ہے۔ زیریں عدالتوں کا حال وہی ہے جو افتخار چوہدری کے دور سے پہلے تھا۔ چلیں اب وہ بھی چلے گئے۔ اب آنے والے چیف جسٹس صاحبان ہی سوموٹو اور پاپولر کیسز کو زیادہ وقت دینے کے بجائے زیریں عدالتوں پرتوجہ مرکوز کر لیں۔ ویسے کیا کبھی کسی نے سوچا کہ 65 برس میں 20 چیف جسٹس آنے کے باوجود زیریں عدالتوں کا معیار اور گراف گرتا ہی کیوں چلا گیا۔ کیا صرف اعلیٰ عدلیہ نے اس کی طرف توجہ نہیں دی یا یہ حکومتوں کی ذمہ داری بھی تھی کہ زیریں عدالتوں کی صفائی کے بعد اس میں جتنے اہل، قابل اور ایماندار ججوں کی ضرورت ہے اتنے جج فراہم کرنا اور ان کو اتنی تنخواہ اور مراعات اور سکیورٹی اور کام کے لیے جدید انفراسٹرکچر دینا کہ وہ تیرے میرے کی طرف نہ دیکھیں؟
اگر یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے تو پھر آج تک کوئی بھی حکومت زیریں اور درمیانی عدالتوں کو اپنے اپنے نظریۂ ضرورت کے تحت ’ساڈا بندہ جج بننا چاہیدا سکیم ‘ کے تحت بھرنے سے توبہ کیوں نہیں کر پائی؟

زیریں عدالتوں کا معیار

کیا صرف اعلیٰ عدلیہ نے اس کی طرف توجہ نہیں دی یا یہ حکومتوں کی ذمہ داری بھی تھی کہ زیریں عدالتوں کی صفائی کے بعد اس میں جتنے اہل، قابل اور ایماندار ججوں کی ضرورت ہے اتنے جج فراہم کرے اور ان کو اتنی تنخواہ اور مراعات اور سکیورٹی اور کام کے لیے جدید انفراسٹرکچر دے کہ وہ تیرے میرے کی طرف نہ دیکھیں۔
کیا کسی کو اندازہ ہے کہ جن جن ممالک کی حکومتوں نے شہریوں کے بنیادی حقوق اور ضروریات کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا وہاں انسدادِ دہشت گردی کے ایک کے بعد ایک قانون بنانے اور سپیڈی ٹرائل کورٹ کی تعداد بڑھانے اور عام عدالتوں میں بہت زیادہ جج رکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
آپ کو ہارورڈ، پرنسٹن، ییل اور آکسفورڈ کی مہنگی تعلیم تو کبھی نہیں تنگ کرتی۔ سوئٹزلینڈ کی سوا ملین ڈالر کی گھڑی اور لندن کے بشپس ایونیو میں ڈھائی ملین پاؤنڈ کا گھر تو فوراً پسند آجاتا ہے۔ لیکن جب وہاں کے عدالتی، سماجی اور سیاسی نظام کی اچھائیاں خریدنے کی بات کی جائے تو آپ فوراً یہ کہہ کر جھڑک دیتے ہیں کہ بادشاہو پاکستان میں بیٹھ کر ترقی یافتہ دنیا کی مثالیں کیوں دے رہے ہیں۔ او ملخ ہور آب و ہوا ہور۔۔۔
پھر بھی آپ چیختے ہیں کہ سومو ٹو ازم اور جوڈیشل ایکٹو ازم دراصل اختیارات غصب کرنے اور عدالتی آمریت قائم کرنے کی کوشش ہے۔
تو کیا افتخار چوہدری کے اثرات اعلیٰ عدلیہ پر کچھ دیر رہیں گے؟ کیا زیریں عدالتوں کی جو ری سٹرکچرنگ اور اصلاحات چوہدری صاحب بھی نہ کرسکے ان کے بعد آنے والے کر پائیں گے؟ جب میں سنہ 2020 تک کی متوقع ریٹائرمنٹ فہرست پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے سپریم کورٹ ایک ایسا ادارہ دکھائی دیتا ہے جسے اب وقت نے اگلے کئی برسوں کے لیے کنوئیر بیلٹ پر رکھ دیا ہے۔ شاید اسی لیے وکیل بھی خوش ہیں، حکومت اور پارلیمنٹ بھی، عسکری ادارے بھی شاداں و فرحاں ہیں اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی۔۔۔
موشگافیوں کی چھت تلے رہنے کے عادی، اکثر و بیشتر سانپ کو رسی اور رسی کو سانپ سمجھنے والے سماجوں کو قد آور، آؤٹ آف باکس سوچنے والے یا تیز رفتار لوگ جانے کیوں راس نہیں آتے۔۔۔

Post a Comment