Wednesday, December 11, 2013

Corruption se Sharab Tak

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بحال ہونے کے فوراً بعد از خود نوٹس کے قانونی تصور کو یوں استعمال کیا جیسے کوئی جنگجو اپنے پسندیدہ ہتھیار کو استعمال کرتا ہے۔
ان کے اس عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے سنہ 2004 میں سپریم کورٹ کو پورے سال میں ازخود نوٹس کےلیے صرف 450 درخواستیں موصول ہوئیں تھیں لیکن مشرف مخالف وکلا تحریک کے نتیجے میں ان کی بحالی کے دو ہی سال بعد ان درخواستوں کی تعداد 90 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔
گویا سوموٹو نہ ہوا عوام کی نظر میں سستے انصاف تک پہنچنے کا ایک سستا اور فوری راستہ ہو گیا۔
آخر یہ ہے سوموٹو یا از خود نوٹس ہے کیا بلا؟
پاکستان کے آئین میں دیگر ممالک کی طرح ایک ایسی شق ہے جس کے تحت عدالتِ عظمیٰ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ’انسانی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے کسی بھی عوامی سطح کے مسئلے‘ پر از خود نوٹس لے کر فیصلہ دے سکے۔ یعنی اگر عدالت یہ محسوس کرے کہ کہیں پر انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے تو عدالت خود ہی اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کئی از خود نوٹس لیے۔ ان میں وزرا کی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی سے لے کر شراب کی دو بوتلوں کے معاملات شامل ہیں۔ کہیں لاپتہ افراد کے بنیادی حقِ انصاف کو اجاگر کیا گیا تو کہیں عدالت نے چپل کبابوں کی قیمت کو انسانی حقوق کا معاملہ پایا۔ ظاہر ہے، ہر پالیسی کی طرح انصاف کی فراہمی کے اس لائحۂ عمل کے حامی بھی ہیں اور ناقدین بھی۔
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کی اکتوبر سنہ 2013 کی ایک رپورٹ میں اتنے سارے سو موٹو لینے پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے جن میں ملزمان کی بے گناہی کے مفروضے کو ٹھیس پہنچنا اور حکومتی اداروں کا اپنے اختیارات سے تجاوز شامل ہیں۔
مگر کیا وجہ تھی کہ چیف جسٹس کو یہ لائحہِ عمل اختیار کرنا پڑا؟ اس سوال پر سپریم کورٹ کے سابق جسٹس وجیہ الدین کہتے ہیں: ’میں سمجھتا ہوں کہ اس رجحان کی وجہ خراب طرزِ حکومت تھا۔ اگر ہمارے ہاں جمہوری حکومتیں صحیح طریقے سے کام کرتیں، قانون کی حکمرانی ہوتی، آئین کی بالادستی ہوتی تو پھر یہ سب کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ اسی لیے سوموٹو اختیارات کا زیادہ استعمال ہوا۔‘
مگر خراب طرز حکومت تو اس ملک میں پہلے بھی تھا۔ دوسری بات یہ کہ کیا انصاف کی فراہمی کا یہ پائیدار طریقہ ہے؟
جسٹس وجیہ الدین کہتے ہیں: ’دیکھیں یہ ایک جاگیردارانہ معاشرہ ہے جہاں علم حاصل کرنا، تعلیم دینا حکومتوں کی ترجیح رہی ہی نہیں۔ اگر یہ ترجیح نہیں ہے تو انصاف کے محکمے کی بھی یہی صورت حال ہے اسی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کو کچھ ایسے مسائل پر کام کرنا پڑتا ہے جو کہ ذیلی سطح پر ٹھیک ہو جانے چاہیے تھے۔ ایسا بھی ہوا ہوگا کہ ایسے معاملات کو اہمیت دی گئی جہاں نہیں دینی چاہیے تھی۔‘

پاکستان کے آئین کی شق

پاکستان کے آئین میں دیگر ممالک کی طرح ایک ایسی شق ہے جس کے تحت عدالتِ عظمیٰ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ’انسانی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے کسی بھی عوامی سطح کے مسئلے‘ پر از خود نوٹس لے کر فیصلہ دے سکے۔ یعنی اگر عدالت یہ محسوس کرے کہ کہیں پر انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے تو عدالت خود ہی اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل بابر ستار کہتے ہیں کہ سوموٹو کا زیادہ استعمال حکومت کی ناکامی تو ہے ہی مگر ملک کے عدالتی نظام کی بھی ناکامی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سوموٹو کا اس قدر استعمال قانون کی فراہمی کا ایک پائیدار طریقہ نہیں ہے: ’سوموٹو کے ساتھ متعدد مسائل ہیں۔ کچھ غیر معمولی معاملات میں تو آپ کو سوموٹو کی ضرورت ہے، مثال کے طور پر لاپتہ افراد کا معاملہ جس کا تعلق ہمارے سول ملٹری روابط سے ہے، جہاں کوئی ذیلی عدالت یہ مسئلہ حل نہیں کر سکتی اور اداروں کی اعلیٰ ترین قیادت کو مسئلے کے حل کے لیے ادارے کے تمام تر اختیارات کا استعمال کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے علاوہ اس سے مسائل بھی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ملک میں ’پری ٹرائل سرٹنٹی‘ یعنی قانونی مستقل مزاجی نہیں رہی یعنی آپ کو نہیں معلوم کہ کس چیز پر سوموٹو لیا جا سکے گا۔ ’آپ کو معلوم نہیں کہاں پر آپ کو ٹرائل کورٹ میں جانا ہے، ہائی کورٹ میں جانا ہے اور کہاں پر سپریم کورٹ خود اس کا نوٹس لے گی۔‘
کیا سپریم کورٹ کے سوموٹو کے زیادہ استعمال سے ملک کی عدالتِ عظمیٰ کے وقار میں کمی ہوئی ہے؟
بابر ستار کہتے ہیں ’یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ قانون دانوں کو شاید ایسا لگاتا ہو مگر عام آدمی کے لیے تو وہ ظلم کے خلاف آخری دفاع ہیں۔
’قانون دانوں کو نہ صرف اس کے طرزِ استعمال پر تشویش ہے بلکہ اس بات پر بھی تحفظات ہیں کہ سوموٹو کو بطور ایک حل پیش کیا گیا ہے۔‘
’سوموٹو کوئی حل نہیں ہے۔ اگر لوگ کہیں کہ اتنے برے حالات ہیں تو اب کیا کریں تو یہ تو وہی بات ہوئی کہ برے حالات ہوتے ہیں تو فوج آ جاتی ہے اور ہم نے ماضی میں یہی سیکھا ہے کہ اس سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔‘
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کہتے ہیں کہ شاید ہم لوگوں کو یہ سمجھا نہیں سکے کہ سوموٹو عوامی مسائل کا حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق عوامی توقعات کی وجہ سے عدالت نے مقبول قسم کے کیس سنانا شروع کر دیے جن سے شاید طرزِ حکومت میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے لوگوں کو براہِ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔
چیف جسٹس کے پیشہ ورانہ ورثے کے بارے میں بحث تو شاید کئی سال تک جاری رہے مگر ایسی کوئی بھی بحث دو الفاظ کے بغیر نہ مکمل ہے۔ سوموٹو!

Post a Comment