Tuesday, December 10, 2013

Adalat aur Siyasat - Talat Hussain

Waiting for his next Column

کہتے ہیں کامیابی کے بہت سے والدین پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ ناکامی ہمیشہ یتیم ہی رہتی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گرد گھومنے والی وکلاء تحریک اور اس کے بعد پیدا ہونے والے بڑے بڑے واقعات کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے عدلیہ کی آزادی کے معاملے کو اپنے مقاصد کے لیے جی بھر کے استعمال کیا۔ اپنا سر بلند کیا۔ سینہ پُھلا کر جمہوریت کے تمغے خود کو عنایت کیے اور موقعے کی مناسبت سے ’’قدم بڑھائو چیف جسٹس ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘کا نعرہ بلند کیا۔ مگر جب آزاد عدلیہ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے ان تمام معاملات کی نشاندہی کرنا شروع کی جن کا تعلق ایک جابر نظام کے استحصالی گماشتوں کے کرتوتوں سے تھا تو تقریبا ہر کسی نے عدلیہ کی ’’حدود‘‘ متعین کرنے کی بحث کا آغاز کر دیا۔
میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا تھو تھوکا رویہ اب بھی موجود ہے بلکہ یوں کہیے کہ اپنے عروج پر ہے۔ کوئی بھی جماعت ایسی نہیں ہے کہ جو چیف جسٹس کے جانے کا انتظار نہ کر رہی ہو۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے سب کو عدلیہ کی آزادانہ کارروائیوں سے ایک ایسا بخار ہو گیا ہے جو چیف جسٹس کے اترنے سے ہی اترے گا۔ اگرچہ یہ سب وہی جماعتیں ہیں جو افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھ دوسرے معزول جج صاحبان کے نام سے اپنے دن کا آغاز کرتیں اور ان کی مالا جپتے ہوئے آنکھیں موندتیں تھیں۔ اس وقت سب چیف جسٹس کو چڑھانے میں مصروف تھے اور اب ان کے اترنے کے لیے بے چین ہیں۔
یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ایک وجہ تو سیاست خود ہے۔ یہاں پر وفاداری کا وہی حال ہے جو ہالی وُڈ میں شادیوں کا ہوتا ہے۔ دو ماہ سے زیادہ نہیں چلتیں اور پھر ختم ہونے کے بعد خوفناک مقدمات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ دوسری وجہ کا تعلق ان توقعات سے ہے جو سیاسی جماعتوں نے عدلیہ کے بحال ہونے سے منسلک کر لیں تھیں۔ جس کسی نے بھی جنرل مشرف کے اقدامات کے خلاف اور ججز کے حق میں ایک مرتبہ بھی زبان کھولی تھی وہ یہ سمجھنے لگ گیا تھا کہ اس کا ہر الٹا سیدھا عدلیہ کے سامنے صرف اس وجہ سے قابل قبول ہو جانا چاہیے کہ وہ کسی زمانے میں سپریم کورٹ کے سامنے کھڑا ہو کر نعرے لگایا کرتا تھا۔ کوئی عدلیہ کے انصاف اور اس کی آزادی کے اثرات کو خود پر لاگو ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ آزاد عدلیہ سیاسی مخالفین کو غلام بنانے میں معاونت بھی کرے۔ دوسرے الفاظ میں سیاسی قیادت عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کو بھی اسی نظر سے دیکھتی ہے جس طرح آزادی صحافت کو۔ ان کے نزدیک اچھا صحافی وہی ہے جو کامیابی کے تمام دعوئوں پر دھمال ڈالے اور پارٹی قیادت کے شادی بینڈ میں زور زور سے ڈھول پیٹے۔ ان کے نزدیک جج وہی اچھا ہے جو ان کا بغل بچہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی اور عسکری حلقوں نے  خود سے آزاد عدلیہ کو مسیحا بنانے کا کام بھی جاری رکھا۔ کون سا ایسا معاملہ ہے جو حکومت یا حزب اختلاف عدالت کے سامنے لے کر نہیں گئی۔ عدالت کے سو موٹو پر تو بڑا شور مچا یا جاتا ہے مگر کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اُن کاموں کے لیے بھی عدالت کا دروزاہ کھٹکھٹایا گیا جس کو انھوں نے خود حل کرنا تھا۔ انتخابات کے لیے ووٹرز لسٹیں ہوں یا ریاست کے خلاف ہونے والی سازشیں (میمو گیٹ) ہر مسئلے پر فیصلے کے لیے عدالت کا رُخ کیا جاتا رہا۔ اس وقت کسی نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ اس عادت کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ویسے بھی اگر ہر ادارے کی کارکردگی غیر معیاری ہے، انتظامیہ نکمی اور احتساب کے عمل سے باہر ہے۔ طاقتور فرعون اور کمزور، مطیع و مجبور و بے کس ہے تو کسی نہ کسی ادارے نے تو ذمے داری اٹھانی ہے۔ کسی نے تو چارج لینا ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عدالت یا ججز محترم با اختیار یقینا ہیں مگر ان کو بھی آئین کے پیرائے میں رہ کر اپنا کام کرنا ہے مگر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس ملک میں کروڑوں باسی ایسے ہیں جن کے شب و روز اس پستی میں گزرتے ہیں جہاں پر قانون نوکر اور آئینی معاملات بے وقعت ہیں۔ ان کو بحث مباحثہ نہیں تکلیف میں فوری تخفیف چاہیے۔
ان تک پہنچنے کا راستہ صرف براہ راست عمل ہے۔ ان کے لیے جمہوری اداروں کے ارتقائی مراحل کا مطلب امید کی شمع کا گل ہونا ہے۔ وہ انتظار نہیں کر سکتے۔ اگر ان کا ہاتھ سیاست دان نہیں پکڑے گا تو یہ کام جج کو کرنا پڑے گا۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے آپ کو زیادہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ صرف یہ سوچ لیں کہ کیا آپ کو پاکستان میں بد عنوانی کی گہری جڑوں کے بارے میں پتہ چلتا، اگر یہ معاملات عدلیہ نہ اٹھاتی؟ کیا آپ یہ جان پاتے کہ ڈاکو کیسے کیسے روپ اختیار کر کے اس قوم کے خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر تباہ کرتے ہیں؟ کیا آپ کو گمشدہ افراد کے بارے میں معلومات ملتی؟ کراچی کے قاتلوں کا پتہ چلتا؟ ان درجنوں اسکینڈلز پر سے پردہ اٹھتا جو اب ہر کسی کو زبانی یاد ہو چکے ہیں۔ یقینا نہیں۔ یہ سب کچھ عدلیہ کی متحرک پالیسی کے  ذریعے ممکن ہوا۔ اگر جج اس گند کے ڈرم سے ڈھکن نہ اٹھاتے تو ہم بھی احمقوں کی اس جنت میں بیٹھے ہوتے جو طاقتور شداد ہمیں گمراہ کرنے کے لیے بناتے ہیں اور پھر ہمیں یہ بتلاتے ہیں کہ ’’سب اچھا ہے‘‘ مگر کیا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے تحت چلنے والے عدالتی نظام نے سب کچھ صحیح کیا؟ اس پر اگلا کالم تحریر ہو گا۔

Post a Comment