Wednesday, December 11, 2013

Aik Hangama Khez Daur

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ میں 13 سال گزارنے کے بعد 12 دسمبر کو ریٹائر ہو گئے۔
اس 13 سالہ دور میں انھوں نے تقریباً آٹھ سال بطور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے طور گزارے جس دوران فوجی حکمران نے اپنا پورا زور لگا کر انھیں دو بار عدالت سے نکالا مگر وہ دونوں بار عوامی حمایت کے بل بوتے پر واپس سپریم کورٹ میں آ گئے۔
افتخار چوہدری کا دور پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سب سے ہنگامہ خیز رہا۔
انھیں سپریم کورٹ میں جج بننے کا موقع اس وقت ملا جب سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا۔
جسٹس افتخار چوہدری نے سپریم کورٹ میں بطور جج پہلا حلف پی سی او جج کے تحت ہی لیا لیکن بطور چیف جسٹس بحال ہونے کے بعد پی سی او کے تحت حلف لینے والے پچاس کے قریب ججوں کو عدالتوں سے نکال باہر کیا۔ وہ ان ججوں میں بھی شامل تھے جنھوں نے پرویز مشرف کے اقتدار کو قانونی لبادہ پہنانے کے لیے نظریۂ ضرورت کا سہارا لیا۔ بعد میں افتخار چوہدری نے اسی نظریہ ضرورت کو ’دفن‘ کرنے کا فیصلہ بھی صادر کیا۔

افتخار چوہدری ان ججوں میں بھی شامل تھے جنھوں نے پرویز مشرف کے اقتدار کو قانونی لبادہ پہنانے کے لیے نظریہ ضرورت کا سہارا لیا
جسٹس افتخار چوہدری سپریم کورٹ میں تعیناتی کے پانچ سال کے اندر ہی چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچ گئے۔ جسٹس افتخار چوہدری کو چیف جسٹس بننے کی اتنی جلدی تھی کہ انھوں نے جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سینیارٹی کو چیلنج کر دیا۔ اگر جسٹس افتخار چوہدری سینیارٹی کی تنازعے میں جیت جاتے تو وہ 2005 کی بجائے 2003 میں ہی چیف جسٹس بن چکے ہوتے۔
جنرل پرویز مشرف کو اپنے دونوں عہدے رکھنے سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک اور قانونی لبادے کی ضرورت تھی تو انھیں جسٹس افتخار چوہدری ’ناقابلِ اعتبار‘ لگے۔
جنرل مشرف کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کو چیف جسٹس کی طرف سے اپنے بیٹے کو نوازنے پر اعتراض نہیں تھا لیکن انہیں پریشانی اس بات کی تھی کہ چیف جسٹس نے کئی فوجی جرنیلوں سے ذاتی تعلقات بنا لیے تھے اور اپنے بیٹے ارسلان افتخار کو بھی ایک جنرل کا داماد بنوا لیا تھا۔ البتہ اس جنرل کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد یہ رشتہ بھی ختم ہو گیا۔
پرویز مشرف نے پہلی بار جب افتخار چوہدری کو سپریم کورٹ سے نکالنے کی کوشش کی اور ان پر اپنے عہدے کا فائدہ اٹھا کر اپنے بیٹے کے کریئر میں مدد دینے کا الزام لگایا تو پاکستان کے لوگوں نے افتخار چوہدری کی طرف سے فوجی آمر کو’ نہ‘ کرنے کی ہمت کو خوب سراہا اور انہیں واپس سپریم کورٹ میں پہنچا دیا۔

نظریہ ضرورت

جسٹس افتخار چوہدری نے سپریم کورٹ میں بطور جج پہلا حلف پی سی او جج کے تحت ہی لیا لیکن بطور چیف جسٹس بحال ہونے کے بعد پی سی او کے تحت حلف لینے والے پچاس کے قریب ججوں کو عدالتوں سے نکال باہر کیا۔ وہ ان ججوں میں بھی شامل تھے جنھوں نے پرویز مشرف کے اقتدار کو قانونی لبادہ پہنانے کے لیے نظریہ ضرورت کا سہارا لیا۔ افتخار چوہدری نے اسی نظریہ ضرورت کو ’دفن‘ کرنے کا فیصلہ بھی صادر کیا۔
جنرل مشرف نے جب دو ماہ بعد ایمرجنسی اختیارات کا سہارا لے کر افتخار چوہدری کو نکالا تو بڑی سیاسی جماعتوں کو جنرل پرویز مشرف کی طاقت پر گرفت کو کمزور کرنے کا موقع ملا۔
اسی دوران پرویز مشرف کا دور ختم ہو گیا اور ایوانِ صدر کا مکین بدل گیا۔ اس نئے صدر نے بھی جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کرنے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کیا لیکن بالآخر اسے ہار مانی پڑی اور افتحار چوہدری قریباً دو سال کے بعد دوسری بار سپریم کورٹ پہنچ گئے اور 12 دسمبر 2013 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔
صدر زرداری کو افتخار چوہدری کو بحال کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور کئی برس تک سوئٹزرلینڈ کے حکام کو خط لکھنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ایک وزیراعظم کی قربانی دے دی اور آخرِکار اس وقت خط لکھا جب اس خط لکھنے کا شاید وقت ہی گزر چکا تھا۔ سپریم کورٹ بھی اس جھگڑے میں اتنی تھک چکی تھی کہ اس نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ڈرافٹ کو مان کر جان چھڑا لی۔
چیف جسٹس افتخار چوہدری نے جوڈیشیل ایکٹیوزم کا ایسا بازار گرم کیا کہ ان پر طرح طرح کے الزام لگنا شروع ہو گئے۔ ان کی جانب سے جنرل مشرف کی حامی اداکارہ کے سامان سے مبینہ طور پر شراب کی دو بوتلیں برآمد ہونے کی خبر پر ازخود نوٹس لینے پر نہ صرف جگ ہنسائی کا باعث بنے بلکہ لوگوں کا ان پر اعتبار بھی کم ہوتا گیا۔

چیف جسٹس نے اپنے بیٹے ارسلان افتخار کے خلاف تحقیقات کو رکوانے کے بعد اسے دو افراد کے مابین لین دین کا معاملہ قرار دے کر اسے ختم کر دیا
سابق چیف جسٹس افضل ظلہ نے سنہ نوے اکانوے میں جب آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت عوامی نوعیت کے معاملات اٹھانے شروع کیے تو انھوں نے پوری کوشش کی کہ وہ ایسے مقدموں کا فیصلہ کریں جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو ریلیف ملے۔
چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اس طاقت کا استعمال سوائے سیاسی حکومتوں کو تنگ کرنے کے لیے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اسی ڈگر پر چلتے ہوئے ایسے مقدمات کا نوٹس لینا شروع کیا کہ حکومت کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ سپریم کورٹ نے انھیں کام کرنے کا موقع ہی نہیں۔
چیف جسٹس افتخار چوہدری نے لاپتہ افراد کا مقدمہ شروع کیا لیکن آخری دنوں تک اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہ دے سکے۔
چیف جسٹس نے عوامی خواہشات پر ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن جب اپنے بیٹے ارسلان افتخار پر کروڑوں روپے کے لین دین کا معاملہ سامنے آیا تو پھر اسی اخلاقی طاقت سے محروم ہو گئے۔

صدر زرداری کو افتخار چوہدری کو بحال کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی
ارسلان افتخار کا بحریہ ٹاؤن کے مالک سے کروڑوں روپے کے لین دین کا جب معاملہ سامنے آیا تو سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا۔ چار ماہ تک مختلف سماعتوں کے دوران ارسلان افتخار کے خلاف تحقیقات کو رکوانے کے بعد اسے دو افراد کے مابین لین دین کا معاملہ قرار دے کر ختم کر دیا۔
ارسلان افتخار کے واقعے کے بعد چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت کے اندر وہی حیثیت رہ گئی جو آخری دنوں میں سجاد علی شاہ کی تھی اور اگر ان کا مدت زیادہ ہوتی تو شاید ان کا حشر بھی سجاد علی شاہ والا ہی ہوتا۔
افتخار چوہدری کو ایک ایسے چیف جسٹس کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ایک فوجی آمر کو نہ کر کے داد تو خوب وصول کی لیکن سپریم کورٹ میں بیٹھ کر جج کی بجائے ایک ایسا آمر بننے کی کوشش کی جس نے عدالت کو دربار میں تبدیل کر دیا۔ افتخار چوہدری نے عام لوگوں کے مقدموں کو حل کرنے کی بجائے ’سیاسی انصاف‘ کرنے کی کوشش کی جس میں وہ بری طرح ناکام رہے۔

Post a Comment