Wednesday, February 5, 2014

Hijab 4 Men by Zeb Mustafa

Hijab4Men: Let’s turn the tables and show men how it feels

What would it be like if men and beards were treated like women and headscarves? PHOTO: FACEBOOK PAGE (
You’re showing too much hair. You’re wearing a lot of makeup and your tight jeans? Well, you’re ruining the reputation of the hijab.
These are just a few examples of the criticism many hijabis face. 
Recently there were even adverts all over the Middle East comparing Muslim women to wrapped sweets – a lollipop with a wrapper symbolises perfection, that is, the angelic Muslim maintaining her pardah, while an ‘unwrapped lolly’ attracts flies to the haram enticement of an exposed ‘sweet’.
The men behind such adverts will deny that comparing Muslim women to sweets is objectifying us. They will contest that they are merely using the analogy as guidance for the benefit of their Muslim sisters by showing concern.
Here is another example, circulating its way around the web.
A Christian asked a Muslim,
“Why do your women cover their bodies and hair?”
The Muslim smiled and got two sweets. He unwrapped the first one and kept the other one wrapped. He threw them both on the dusty floor and asked the Christian,
“If I asked you to take one of the sweets, which one will you choose?”
The Christian obviously replied,
“The covered one.”
Then the Muslim said,
“In the same way that the wrapper protects the sweet from dust, the hijab protects our ladies from the sins and evil of this world.”
Photo: Twitter/Gautam Trivedi
There is an increasing expectation for Muslim women to conform to a certain ‘saintly’ exterior when wearing the hijab , otherwise there is a risk of ruining this clean-cut image. It doesn’t matter how much she prays or heaven forbid how much knowledge she has, let the men focus solely on her headscarf.
It is not just these advertising campaigns that are to blame. The West’s orientalist vision of Muslim women doesn’t help either.
From Pew Research polls of ‘how people in Muslim countries prefer women to dress in public’ – complete with different diagrams of hijab styles – to World Hijab Day which paved the way for white saviour complexes to post selfies of themselves in hijabs, turning it into a costume for the day, once again the West appropriated Muslim women and condescendingly tried to understand us without giving us a voice of our own.
Photo: File
Is being a Muslim woman really all about appearance?
Before you start playing the moral police,  let me ask you this.
What if the tables were turned?
What if we did the same with men?
Hijab4Men did exactly that with their satirical Facebook page. Although this group mocks the stupidity of such advertising campaigns, some Muslim men should take a taste of their own medicine.
The ethos of Hijab4Men is simple,
“What would it be like if men and beards were treated like women and headscarves?” 
Pictures such as a bearded Muslim praying in comparison to a man wearing swimming trunks on the beach can be used in the same context of the hijabi-candy adverts can’t they?
Photo: Facebook page (
There was one caption that had me in fits. It accompanied both, a peeled and an unpeeled kiwi and I’ve shared it below:
Photo: Facebook page (
If Muslims want to progress, it is imperative to understand the double standards when it comes to women in Islam, as Hijab4Men so hilariously demonstrates.

Diamonds ki Talash by Rauf Klasra

Search for Diamonds

Kitnay Dusham Bnayen gai by Javed Ch

Creating more and more enemies...
آپ کو 26 نومبر 2008ء کی وہ شام یاد ہو گی جب بھارتی شہر ممبئی کے آٹھ مقامات پر حملے شروع ہوئے‘ یہ حملے دس نوجوانوں نے کیے اور یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا‘ حملوں میں بھارت کے 166 افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہو گئے‘ آپ کو یہ بھی یاد ہو گا‘ بھارتی میڈیا نے ان حملوں کی ذمے داری پاکستان پر ڈال دی تھی‘ بھارتی میڈیا منہ سے نفرت کے شعلے اگلنے لگا اور یوں پاکستانی میڈیا سامنے آنے پر مجبور ہو گیا‘ ممبئی پولیس نے حملوں کے آخری دن دعویٰ کیا ’’ ہم نے پاکستانی حملہ آور اجمل قصاب گرفتار کر لیا ہے‘‘ اس دعوے کے ساتھ ہی وہ کہانی شروع ہو گئی جس نے بھارت اور پاکستان کے درمیان نفرتوں اور غلط فہمیوں کے نئے بیج بو دیے‘ ممبئی پولیس نے اجمل قصاب اور ان کے ساتھیوں کے خلاف 12 ایف آئی آر درج کیں‘ 12 افسروں کو تفتیش کی ذمے داری سونپی گئی‘ اجمل قصاب نے واقعے کے 2 ماہ 21 دن بعد مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کیا‘ 15 اپریل2009ء کو عدالتی کارروائی شروع ہوئی اور اجمل قصاب عدالت میں پہنچ کر اعترافی بیان سے منحرف ہو گیا‘ اس نے دعویٰ کیا ’’میں بالی ووڈ میں ایکٹر بننے کے لیے بھارت آیا تھا‘ پولیس نے مجھے اس واقعے سے بیس دن قبل جو ہو کے علاقے سے گرفتار کیا‘ یہ واقعہ ہوا تو پولیس نے مجھ پر تشدد کر کے یہ اعترافی بیان لے لیا‘‘.
پولیس نے فہیم ارشد انصاری اور صباح الدین دو بھارتی شہریوں کو اجمل قصاب کا ساتھی ڈکلیئر کر کے عدالت میں پیش کیا‘ فہیم پر الزام تھا اس نے ہاتھ سے ممبئی کے نقشے بنائے اور یہ نقشے صباح الدین نے نیپال کے ذریعے اجمل قصاب کے استاد ذکی الرحمن لکھوی کو بھجوائے‘ پولیس عدالت میں ان دونوں کو مجرم ثابت نہ کر سکی چنانچہ یہ دونوں باعزت بری ہو گئے‘ اجمل قصاب کا مقدمہ 332 دن چلا‘ چارج شیٹ 14280 صفحات پر مشتمل تھی‘ گواہوں کی فہرست میں 2202 لوگ شامل تھے‘ 657 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا‘ عدالت نے 110 سماعتیں کیں‘ اجمل قصاب کو ذاتی وکیل کی اجازت نہیں ملی‘ اسے سرکاری وکیل سے بھی ملاقات نہیں کرنے دی گئی ‘ گواہوں پر جرح بھی نہیں ہوئی ‘ اجمل قصاب نے فیصلے کے خلاف اپیلیں کیں مگر تمام اپیلیں خارج ہو گئیں اور یوں اسے 21 نومبر 2012ء کی صبح سات بجے پونا جیل میں پھانسی دے دی گئی‘ اسے جیل ہی میں دفن کر دیا گیا۔
اجمل قصاب دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن اپنے پیچھے سوالات کی نہ ختم ہونے والی لکیریں چھوڑ گیا مثلاً دنیا کی کوئی عدالت 110 سماعتوں میں 657 گواہوں کی گواہیاں ریکارڈ نہیں کر سکتی‘ اجمل قصاب کے معاملے میں یہ معجزہ کیسے رونما ہوا؟ بھارت کے عدالتی نظام نے 1993ء کے ممبئی حملوں کا فیصلہ 2007ء میں کیا لیکن اجمل قصاب کا فیصلہ 332 دنوں میں کر دیا گیا‘ یہ بھارتی تاریخ کا دوسرا تیز ترین فیصلہ تھا‘ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اجمل قصاب کا اعترافی بیان بھی تضادات کا مجموعہ تھا‘ یہ دو جماعت پاس لیکن اس کا بیان انتہائی پڑھے لکھے نوجوان جیسا تھا‘ پاکستان کے کسی بھی حصے میں قصابوں کو قصاب نہیں کہا جاتا‘ یہ قریشی کہلاتے ہیں یا قصائی‘ اجمل پھر قصاب کیسے ہوگیا؟
اجمل قصاب نے اعترافی بیان میں اپنے پورے خاندان چچاؤں‘ تایا اور پھوپھیوں کے ایڈریس‘ نمبر اور ان کے بچوں کی تفصیل لکھوائی‘ اس نے ان کے ٹیلی فون نمبر تک لکھوا دیے‘ یہ کسی ان پڑھ نوجوان کے بس کی بات نہیں‘ پاکستانی خالہ کو موسی نہیں کہتے لیکن اجمل نے خالہ کو موسی لکھوایا‘ لاہور کا کوئی شخص داتا دربار کو علی ہجویری درگاہ نہیں کہتا مگر اجمل نے اسے علی ہجویری درگاہ لکھوایا‘ اجمل کے بیان میں ’’لاہور کا مزدوروں کا اڈہ‘‘ درج ہے‘ لاہور میں ایسا کوئی مقام نہیں‘ وہ ٹریننگ کے دوران بار بار حافظ سعید اور لکھوی صاحب سے ملاقات کا ذکر کرتا ہے‘ یہ بھی بعید از قیاس ہے‘ دنیا کا کوئی لیڈر کسی ادنیٰ کارکن سے اس طرح نہیں ملتا‘ یہ اعترافی بیان میں مریدکے اور مانسہرہ کے سفر کو بارہ گھنٹے قرار دیتا ہے‘ یہ لاہور سے مظفر آباد کے سفر کو 17 گھنٹے کہتا ہے‘ یہ بھی غلط ہے‘ ہم سب پاکستانی کشمیر کو آزاد کشمیر کہتے ہیں لیکن اجمل قصاب اسے پاکستانی مقبوضہ کشمیر لکھواتا ہے‘ دو جماعت پاس نوجوان سیٹلائٹ فون‘ جی پی ایس اور نقشے سمجھنے کا بھی ایکسپرٹ ہے‘ ہم ٹورسٹس کو سیاح کہتے ہیں مگر اجمل نے اسے درویشی سیلانی لکھوایا‘ پاکستان کیا پورے عالم اسلام میں رمضان عید نہیں ہوتی‘ مسلمان عیدالفطر کو چھوٹی عید اور عیدالاضحی کو بڑی عید کہتے ہیں لیکن اجمل نے چھوٹی عید کو رمضان عید قرار دیا اور ہم پاکستان میں میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل دونوں کو صرف جنرل کہتے ہیں مگر اجمل اپنے بیان میں میجر جنرل کو میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل کو لیفٹیننٹ جنرل لکھواتا ہے‘ یہ کیسے ممکن ہے؟
یہ سارے سوال جواب چاہتے ہیں مگر بھارت کے کسی سمجھ دار اور غیرجانبدار شخص نے یہ جواب تلاش نہیں کیے‘ آپ انھیں بھی چھوڑ دیجیے‘ بھارت اس ڈیوڈ ہیڈلے کو کہاں رکھے گا جس نے 18 مارچ 2010 ء کوشکاگو کی عدالت میں اعتراف کیا تھا ’’ ممبئی حملوں میں میرا ہاتھ تھا‘‘ ڈیوڈ ہیڈلے ایف بی آئی اور سی آئی اے کا ڈبل ایجنٹ تھا اور بھارت اپنے سینئر بیورو کریٹ وی آر وی ایس منی اور سی بی آئی کے سینئر عہدیدار استیش ورما کے ان حلفی بیانات کا کیا جواب دے گا جس میں ان لوگوں نے انکشاف کیا ’’ 2001ء کے پارلیمنٹ اور 2008ء کے ممبئی حملے بھارت نے خود کرائے تھے‘‘ بھارت ان سوالوں کے جواب کب اور کہاں دے گا؟۔
یہ اجمل قصاب کے مقدمے کا ایک پہلو تھا‘ آپ اب دوسرا پہلو بھی ملاحظہ کیجیے‘ اجمل قصاب نے بھارت میں17 فروری 2009ء کو اعترافی بیان دیا لیکن پاکستان نے اس اعترافی بیان سے پانچ دن قبل12 فروری کو حافظ سعید‘ ذکی الرحمن لکھوی‘ حماد امین صادق‘ مظہر اقبال‘ شاہد جمیل ریاض‘ عبدالواجد،محمد جمیل اور یونس انجم کے خلاف مقدمہ درج کر دیا‘ یہ لوگ گرفتار بھی ہو گئے‘ یہ مقدمہ پچھلے پانچ برسوں سے زیر التواء ہے اور اس کی واحد وجہ بھارتی رویہ ہے‘ یہ جرم کیونکہ بھارتی سرزمین پر ہوا تھا چنانچہ ثبوت پیش کرنے کی ذمے داری بھی بھارت کی تھی‘ عینی شاہدین اور گواہ بھی بھارت میں تھے ‘ پاکستان کی عدالتوں اور وکلاء کو گواہوں اور ثبوتوں تک رسائی بھی بھارت نے دینی تھی مگر بھارت نے پانچ برسوں میں یہ رسائی‘ یہ ثبوت نہیں دیے‘ پاکستانی وکلاء حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی پر الزام لگانے والے فہیم ارشد انصاری اور اجمل قصاب سے ملنا چاہتے تھے‘ بھارت نے اجازت نہیں دی‘ پاکستان نے بھارتی مجسٹریٹ اور تفتیشی افسر کو پاکستانی عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کی‘ بھارت نے انکار کر دیا‘ پاکستانی عدالت نے استغاثہ اور صفائی کے وکلاء کو گواہوں کے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے بھارت بھجوانے کا حکم دیا مگر بھارت سے اجازت نہ ملی‘ بھارت نے اصرار کے بعد 2012ء میں پاکستانی عدالتی کمیشن کو صرف چار گواہیاں ریکارڈ کرنے کی اجازت دی لیکن جب ان سے گواہوں پر جرح کا حق مانگا گیا تو بھارتی عدالت نے صاف انکار کر دیا‘ یوں ڈیڈ لاک ہو گیا‘ سفارتی کوششیں شروع ہوئیں تو پاکستانی وکلاء کو جرح کا حق دے دیا گیا مگر عدالتی کمیشن کے بھارت پہنچنے سے پہلے اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی یوں جرح کا سرے سے امکان ختم ہو گیا‘۔
اجمل قصاب کو کسی آزاد شخص‘ ادارے یا این جی او سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی‘ بھارت نے انصار برنی تک کو ملاقات کا موقع نہیں دیا‘ حافظ سعید اور لکھوی صاحب پر فہیم ارشد انصاری اور صباح الدین نے الزام لگایا تھا‘ یہ دونوں بری ہو چکے ہیں لیکن الزام ابھی تک قائم ہے‘ مقدمے کے دوران دعویٰ کیا گیا‘ حملہ آوروں کے حافظ سعید اور لکھوی صاحب سے ٹیلی فونک رابطے تھے مگر تمام فرانزک رپورٹس نے اس الزام کو رد کر دیا‘ رپورٹس کے مطابق حملہ آور امریکی اور بھارتی نمبروں پر رابطے میں تھے‘ کسی فون کے ذریعے کسی پاکستانی نمبر پر رابطہ نہیں ہوا‘ ملزمان کو ای میل بھی ماسکو سے بھجوائی گئی تھی‘ بھارت آج تک حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا‘ پاکستانی عدالتی کمیشن اور تفتیشی افسروں تک کو بھارت جانے اور تفتیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی‘ پاکستان کو مطلوب معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود بھارت کی طرف سے حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سزا کا مطالبہ جاری ہے‘ بھارت اس معاملے میں اس قدر پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ میاں نواز شریف 23 اکتوبر 2013ء کو صدر اوبامہ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس گئے تو صدر اوبامہ نے ڈرون حملوں پر بات چیت کے بجائے جماعت الدعوۃ کا کیس کھول لیا اور ممبئی اٹیکس پر گفتگو شروع کر دی‘ ہمارے وزیراعظم امریکی صدر کے دباؤ میں آ گئے اور انھوں نے باہر نکل کر پاکستانی میڈیا سے فرما دیا ’’ ہمیں بھی اپنے ہاؤس کو ان آرڈر کرنا چاہیے‘‘ ہمارے وزیراعظم کو کسی نے اصل صورتحال بتائی ہی نہیں تھی چنانچہ جب امریکی صدر نے میاں نواز شریف کے سامنے جماعت الدعوۃ کا ایشو اٹھایا تو یہ پریشر میں آ گئے۔
حافظ سعید پاکستانیوں کے لیے محترم ہیں‘ یہ کشمیری ہیں‘ یہ کشمیر کی تحریک میں انتہائی فعال رہے‘حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے بے انتہا قربانیاں دیں‘ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس شہ رگ کی بقا کے لیے میاں نواز شریف سے لے کرعام شہری تک ہر شخص ‘ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور یہ قربانی اگر جرم ہے تو پھر ہم سب مجرم بھی ہیں اور ہمیں اپنے اس جرم پر فخر بھی ہے‘ میاں نواز شریف اور حافظ سعید دونوں کا کاز ایک ہے‘ میاں نواز شریف نے کل آزاد کشمیر کی اسمبلی میں کھڑے ہو کر جن خیالات کا اظہار کیا‘ حافظ سعید اور ان کے ساتھی برسوں سے ان خیالات پر عمل کر رہے ہیں‘ حافظ سعید صاحب اور ان کی جماعت پاکستان کی چند بڑی فلاحی تنظیموں میں بھی شمار ہوتی ہے‘ یہ زلزلوں سے لے کر سیلابوں تک ملک کی ہر مشکل میں دامے،درمے اور سخنے شریک ہوتی ہے‘ آپ آواران کے زلزلے کو لے لیجئے 24 ستمبر 2013ء کو سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں شدید زلزلہ آیا‘ اس زلزلے میں بلوچستان کے دو اضلاع گوادر اور آواران متاثر ہوئے‘ ریاستی ادارے آواران نہیں پہنچ سکے لیکن حافظ سعید کے ساتھی وہاں پہنچے بھی اور انھوں نے وہاں متاثرین کی مدد بھی کی لیکن ہم نے ان کی خدمات اور قربانیوں کے اعتراف کے بجائے ان پر مقدمے قائم کر رکھے ہیں‘۔
آج بھی ذکی الرحمن لکھوی صاحب سمیت چھ لوگ جیلوں میں پڑے ہیں‘ یہ لوگ اس بھارت کے ناحق دباؤ کی وجہ سے جیلوں میں ہیں جسے ہم آج بھی دشمن سمجھتے ہیں‘ جسے ہم بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کا ذمے دار قرار دیتے ہیں اور جسے ہم خودکش حملوں کا ماسٹرمائنڈ بھی کہتے ہیں۔چلیے ہم ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں‘ یہ تمام الزام درست ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے ان الزامات کو ثابت کس نے کرنا ہے؟ کیا یہ بھارت کی ذمے داری نہیں؟ اگر ہاں تو کیا یہ اپنی ذمے داری نبھا رہا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہم حافظ سعید صاحب اور ان کے ساتھیوں کو کس جرم کی سزا دے رہے ہیں؟ ہم آخر کب تک محب وطن لوگوں کو اپنا دشمن بناتے رہیں گے؟ ہم کب تک ریاست کے دوستوں کا دل توڑتے رہیں گے؟ کیا ہمیں یہ فیصلہ کرنے کے لیے بھی کوئی مذاکراتی کمیٹی بنانا پڑے گی؟

Taleban Muzakirat by Ayyaz Ameer

Muzakirat and exactly what i feel about them...

Terrorism Resolved - Lets Solve other issues - by Talat Hussain

دہشت گردی کے حل کے بعد دوسرے معاملات

طلعت حسین  منگل 4 فروری 2014
اب چونکہ ہم نے سیاسی دانش مندی اور عسکری دور اندیشی کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کا مسئلہ حل کر لیا ہے۔ لہذا اب ہم سب کو اپنی توجہ ان معاملات کی طرف مبذول کرنی چاہیے جو پچھلے کئی برسوں کے برے حالات کے ہاتھوں ہماری نظروں سے اوجھل ہوئے رہے ہیں۔ خداوند تعالیٰ کی رحمت سے اس ملک نے طالبان کے ساتھ بات چیت کے توسط سے قومی اتحاد اور یک جہتی کا وہ نظارہ دیکھ لیا ہے جس کی تڑپ لیے ہمارے ملک کے بانیان اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ طویل شورش کے خاتمے کا وقت قریب ہے۔ ہم انشاء اللہ تعالی بات چیت کے ذریعے اس ملک اور قوم کے لیے وہ حالات پیدا کر دیں گے جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھے۔ خوشیاں دور نہیں ہیں امید اور ہمت کا دامن نہیں چھوڑنا۔ سیاسی قیادت ملک کو سیدھے رستے پر لا رہی ہے۔
اب آئیے !دوسرے حل طلب معاملات کی طرف‘ دو دن پہلے مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں پاکستان کی ایک محققہ نے اپنی بپتا کہانی لکھی تھی۔ میرے خیال میں ان کا مسئلہ ذاتی نہیں اس پالیسی سے متعلق ہے جو ان جیسے کئی دوسرے سنجیدہ محب وطن پاکستانیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ خط لفظی ترجمے کے ساتھ آپ کو پیش کر رہا ہوں۔ اس کا متن ازخود وضاحت کر رہا ہے مسئلہ کیا ہے۔
’’میں اس بات کو بخوبی سمجھتی ہوں کہ آپ ہمارے ملک کے اولین صحافیوں میں سے ایک ہیں جو حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرتے ہیں، اور قومی ترقی اور تبدیلی کے ایک ایماندار موجب کی حیثیت سے اُن حکومتی اور قومی معاملات پر زور دیتے ہیں کہ جن سے پاکستان کے عوام عام لوگوں کو درپیش مسائل کو سمجھ سکیں۔ سب سے پہلے میں آپ کو آپ کے کام کے لیے مبارک باد پیش کرتی ہوں جو آپ اس ملک اور قوم کے لیے کر رہے ہیں۔
آج میں آپ کو ایک ایسے ایشو کے بارے میں لکھ رہی ہوں جس کہ متعلق مجھے امید ہے کہ آپ اپنا وقت نکال کر ضرور غور کریں گے۔
میرا نا م درشہوار ہے ۔میں لندن امپریل کالج میں پی ایچ ڈی کی طلباء ہوں۔ میں کھانے پینے کے اجزاء اور چھاتی کے سرطان پر تحیقق کر رہی ہوں۔ میں نے اسلامیہ کالج بہاولپور سے ڈی۔ فارمیسی گولڈ میڈل کے ساتھ مکمل کی۔ اور میری اس پی ایچ ڈی کی تمام فنڈنگ ایچ ای سی کر رہا ہے۔
میرے اس اسکالر شپ کی تمام فنڈنگ حکومت پاکستان نے کرنی تھی۔ میری پی ایچ ڈی کے وسط میں مجھے ایچ ای سی کی طرف سے ایک غیر محتاط ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ ہم آپ کی فیس کی ادائیگوں سے قاصر ہیں۔ یہ میر ے لیے ایک نامناسب دھچکا تھا۔ میرا تعلق ایک متوسط بیک گراونڈ سے ہے اور میں اس قابل نہیں کہ اتنی بھاری ادائیگی کر سکوں۔ ایک سال پہلے میں نے ڈاکٹر لغاری سے جو کہ اُس وقت ایچ ای سی کے چیئرمین تھے، رابطہ کیا اور اُن کو فیس میں ہونے والے اُ س اضافے کے متعلق بتایا جو کہ اسکالرشپ اسکیم کا حصہ نہیں تھا اور اُن کو یہ بھی کہا کہ میں واپس آ جاتی ہوں اگر ایچ ای سی اضافی رقوم ادا کر نے سے قاصر ہے۔ اُس وقت ڈاکٹر لغاری نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ یہ اسکیم PC-1 کا حق ہے اس کو اپ گریڈ کیا جائے اور یہ میری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند (جو کہ پلاننگ کمیشن میں ہیں) اس سات سال پرانی اسکیم کی اپ گریڈیشن کے لیے بات کی اور یہ یقین دلایا کہ اس کام کو جلد ہی کر دیا جائے گا کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سے طلباء جو بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں متا ثر ہو رہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اندرونی اسٹاف نہیں چاہتا کہ یہ کام ہوں۔
اب حالت یہ ہے کہ ایچ ای سی نہ صرف اُس اضافی رقوم کی ادائیگی سے انکاری ہے، جس کی یقین دہانی مجھے کروائی گئی تھی، بلکہ عام فیس جو کہ معاہدے کے مطابق کرنی تھی اُس سے بھی منکر ہو گیا ہے۔ میرا کسی حکومتی عہدیدار سے کوئی تعلق نہیں کہ جس کے ذریعے میں اپنی استدعا پہنچا سکوں۔ میں خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی ہوں ‘میرا کیرئیر اور مستقبل بے یقینی کا شکار ہے۔ ضرورت کے وقت مدد کے لیے انسان کو اپنے ملک کے باشندوں پر انحصار کرنا چاہیے لیکن یہاں میں دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہی ہوں۔ یہاں میں کوئی بیان نہیں دینا چا ہوں گی کہ میری تعلیم کے لیے خرچ ہونے والا پیسہ کہاں اور کیوں گیا۔ لیکن میں قطعی طور پر یہ محسوس کر رہی ہوں کہ اس طرح ہم ہنر مند اور ذہین لوگوں کو کھو دیں گے جو کہ ہمارے ملک کو بھرپور طریقے سے ترقی کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
درشہوار، پی ایچ ڈی اسکالر
اس ملک میں سنجیدہ کام کر نے والے کم ہیں۔ اگرچہ صلاحیت کی کمی نہیں۔ ایچ ای سی نے پچھلے کئی سالوں میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ترویج کے لیے قابل تعریف کام کیا ہے۔ مگر اعلیٰ تعلیم کو مکمل طور پر اولین ہدف میں بدلنے کے لیے اس قسم کے مسائل کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ تحقیق پالیسی کے نئے زاویے کھولتی ہے۔ سوچ کی اُڑان میں اضافے کا باعث بنتی ہے، ملک کے بہترین تعارف کا باعث بنتی ہے۔ ملک سے باہر پڑھنے والے اگر ملک میں واپس نہ بھی آئے پھر بھی کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کی خدمت کر سکتے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذمے داران کو اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔ اور اگر اس خط میں موجود شکایت درست ہے تو اس کا فوری ازالہ ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور عمران خان جیسے دوسرے سیاست دان چونکہ دہشت گردی کے جنجال سے ملک کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لہذا اُن سے بھی گزارش ہے کہ تعلیم کے مسائل پر توجہ دیں۔ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اگلے چند ہفتوں میں ہر طرف خوشیوں کی بہار آ جائے گی اس بہار میں ایک رنگ تعلیم کی بہتری کا بھی ہونا چاہیے۔