Sunday, December 8, 2013

Iftikhar Chaudry-- Urooj o Zawal

Iftikhar Chaudry--- Urooj o Zawal ki Kahani..
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس ہفتے عدالت عظمیٰ کے سربراہ کی حیثیت سے ایک غیر معمولی اور طویل اننگز کھیلنے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ اگلے تین چار دنوں میں آپ کو اُن کے حوالے سے خوشامد کے ٹوکرے بھی نظر آئیں گے اور کیچڑ اچھالنے والے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان میں چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے تو بہت ہیں۔ لیکن ایک جدت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ پوجا پاٹ سورج کے مکمل غروب ہونے تک جاری رکھی جاتی ہے۔ دل میں حسد اور بغض رکھنے والے بہرحال غروب آفتاب کا انتظار نہیں کرتے اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات جوں جوں اپنے عہدے کے اختتام کی طرف جانے لگتی ہیں توں توں لعن طعن کرنے والوں کی بہادری میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر یہ ضروری ہے کہ تصویر کے دونوں رخ سامنے رکھے جائیں تا کہ مبالغہ آمیز تجزیوں میں کہیں حقائق چھپ نہ جائیں۔
میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زوال اور عروج کی ابتداء کو میں نے اپنے چند اور ساتھیوں کی طرح انتہائی قریب سے دیکھا ہے۔ اگرچہ آج کل وکلاء کی تاریخ ساز تحریک کے جنم میں حصہ ڈالنے والے دعویدار بہت ہیں۔ مگر میں آپ کو ایک عینی شاہد اور زمینی حقائق کے قریب رہ کر صحافی کی حیثیت سے بتا سکتا ہوں کہ شروع میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو وکلاء کے سوا کسی اور کا سہارا میسر نہیں تھا۔ اور یہ وکلاء بھی عام وکلاء تھے۔ اس تحریک پر ’’خواص‘‘ نے بعد میں قبضہ کیا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے گاڑی چلا کر تمام کا تمام میڈیا اپنی طرف متوجہ تو کرلیا۔ لیکن اس تحریک میں جان ڈالنے والوں میں موجودہ اٹارنی جنرل منیر اے ملک، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، علی احمد کرد اور اطہر من اللہ سب سے نمایاں تھے۔ اِن کے علاوہ اصل ہراول دستہ وہ ہزاروں وکلاء تھے جن کی کبھی تصویر نہیں بنی۔ اور نہ ہی اُن کا نام تاج پوشی کی کسی رسم میںبتایا گیا۔
ذرایع ابلاغ کا قصہ بھی آپ کو بتا دوں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بزور طاقت اتارے جانے کے بعد جب پہلی مرتبہ راولپنڈی بار گئے تو ٹی کیمرے صرف چند ہی تھے۔ میں اپنے کیمرے سے خود فلم بندی کر رہا تھا۔ استقبال بڑا جاندار تھا مگر جب چیف جسٹس کی تقریر سنوانے کا موقعہ آیا تو جن چینلز کے پاس لائیو تصویریں دکھانے کی سہولت موجود تھی انھوں نے کیمرے بند کر دیے۔ چیف جسٹس کا راولپنڈی بار سے پہلا خطاب ٹیلی فون کے ذریعے سنوایا گیا۔ آج کل کھٹا کھٹ تصویریں بنوانے والے اور چیف جسٹس کی تعریفوں کے پل باندھنے والے تجزیہ نگار جنرل مشرف کے رعب میں دبکے بیٹھے تھے۔ چیف جسٹس کی خبر صرف وکلاء کے احتجاج کے حوالے سے بن رہی تھی۔ اِس سفر کا اگلا اسٹیشن سکھر بار تھی۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ تین چار صحافیوں اور مقامی نمایندگان کے سوا چیف جسٹس کے استقبال اور احتجاج کو فلم بند کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ تمام ترصلاحیت رکھنے کے باوجود لائیو کوریج نہیں کی گئی۔ وہ خطاب بھی ٹیلی فون پر سنوایا گیا تھا۔ بلکہ ایک موقعہ تو ایسا آیا جب چیف جسٹس کو اپنا خطاب پانچ، سات منٹ کی تاخیر سے شروع کرنا پڑا کیونکہ اُس وقت سکھر بار کے پنڈال میں ٹیلی فون کے سگنلز صحیح نہیں آ رہے تھے۔
حیدرآباد میں حالات تھوڑے تبدیل ہوئے۔ جب مختلف جج صاحبان نے استعفوں کے ذریعے وکلاء حضرات کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ مگر اصل تبدیلی پشاور کے جلسے کے بعد آئی تھی۔ وہاں پر بھی آج کل کے جید لکھاری اور عدلیہ کی آزادی پر بات کر کے نہ تھکنے والے مجاہد غیر حاضر تھے۔ پنڈال میں وہی صحافی موجود تھے جو پچھلے کئی ہفتوں سے چیف جسٹس کے گرد بنتی ہوئی اس اہم خبر کو مسلسل کور کر رہے تھے۔ پشاور میں جنرل پرویز مشرف کے نظام کو گرانے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ خیبر پختو نخوا کے اندر انتہائی جوش و خروش سے اُس اصول کی طرفداری کی گئی تھی جس کو پامال کرنے میں جنرل مشرف نے اپنی پوری قوت لگا دی تھی اور وہ اصول یہ تھا کہ آئین کا دائرہ کار کسی طور بھی نہیں توڑا جا سکتا۔کسی ایک شخص کو دوسرے شخص پر صرف  اتنی ہی فوقیت حاصل ہے جتنی آئین اجازت دیتا ہے۔ آنے والے ماہ و سال میں یہ اصول جمہوریت کی بنیادی اینٹ بن گیا۔ جس کے نتیجے میں مسلسل الیکشن اور سویلین حکومت کا دوسری سویلین حکومت کو اختیار منتقل کرنے کی روایت جڑ پکڑ گئی۔
جس دن پشاور میں چیف جسٹس نے خطاب کرنا تھا اُس روز جنرل مشرف نے اپنے کیمپ آفس میں مدیران، اینکرز اور صحافیوں کے ایک گروپ کو مدعو کیا۔ اس نشست میں درجنوں ایسے لوگ موجود تھے جو چیف جسٹس اور وکلاء تحریک کو فنا کرنے کی حیرت انگیز تجاویز دے رہے تھے۔ جنرل صاحب کو خوش کرنے کے لیے یہ پیشین گوئی بھی کر رہے تھے کہ اس تحریک میں جان نہیں ہے یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ آج جب میں ان میں سے بہت سوں کو جنرل مشرف کے خلاف بات کرتے ہوئے اور چیف جسٹس کو فرشتۂ رحمت قرار دیتے ہوئے سنتا ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہو ں کہ منافقت سے بڑا گناہ کوئی اور نہیں ہے۔ لیکن چونکہ منافقت ایک انتہائی منفعت بخش صنعت بن چکی ہے لہذا ہمارے نظام میں اِس کو زوال نہیں۔ ویسے بھی ٹیلی ویژن نے قومی یادداشت کو پانچ منٹ تک محدود کر دیا ہے۔ لہذا کل کے جھوٹوں کے آج کے سچائی کے دعوے کسی اعتراض یا سرزنش کے بغیر قبول کر لیے جاتے ہیں۔ وکلاء کی تحریک میں سیاسی جماعتوں کا کیا کردار تھا اور بحال ہونے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس تاریخ ساز موقعے کو کیسے استعمال کیا یہ اگلے کالم کا موضوع ہو۔

Post a Comment