Monday, December 16, 2013

Adal e Farooqi -- By Javed Ch

آپ کو یاد ہو گا سپریم کورٹ نے2007ء میں جنرل پرویز مشرف کی صدارتی اہلیت کے کیس کی سماعت شروع کی‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہو چکے تھے ‘ جسٹس جاوید اقبال گیارہ ججوں کے ساتھ اس کیس کی سماعت کر رہے تھے‘ جج حضرات صدر جنرل پرویز مشرف کو عدالت میں طلب کرنا چاہتے تھے لیکن اٹارنی جنرل قیوم ملک اس طلبی کے خلاف تھے‘ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا‘ صدر کو امیونٹی حاصل ہے‘ یہ عدالت میں پیش نہیں ہو ں گے‘ اس وقت غالباً جسٹس خلیل رمدے نے ریمارکس دیے ’’ اگر حضرت عمر فاروق ؓ قاضی کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں تو جنرل پرویز مشرف کیوں نہیں؟‘‘ اٹارنی جنرل کے پاس اس دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا‘ یہ دلیل سوئس مقدمات کے کیس میں بھی دہرائی گئی‘ سپریم کورٹ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کیسز کھلوانا چاہتی تھی لیکن اٹارنی جنرل کا کہنا تھا ’’ صدر کو امیونٹی حاصل ہے‘ ان کے خلاف مقدمات نہیں کھل سکتے‘‘ اس وقت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا فرمان تھا ’’ اگر حضرت عمرؓ کو کوئی امیونٹی حاصل نہیں تھی تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کو یہ استثنیٰ کیوں حاصل ہے‘‘یہ دونوں جواز سو فیصد درست تھے۔
حضرت عمر فاروق ؓ بلاشبہ دنیا کی تاریخ کے ایک ایسے حکمران تھے جنہوں نے خلیفہ کی حیثیت سے کوئی امیونٹی‘ کوئی استثنیٰ حاصل نہیں کیا‘ یہ دوسری چادر کا حساب بھی دیتے تھے اور اپنے صاحبزادے کو مصر میں شراب پینے کے جرم میں مدینہ میں طلب کر کے خود اپنے ہاتھ سے کوڑے بھی مارتے تھے اور یہ سزا اس کے باوجود جاری رہتی تھی کہ مصر کے گورنر عمروبن العاصؓ خلیفہ سے بار بار عرض کرتے تھے ‘ میں نے ملزم کو مصر میں سزا دے دی تھی مگر حضرت عمرؓ کا فرمانا تھا‘ تم نے اسے تنہائی میں سزا دی‘ یہ خلیفہ کا بیٹا ہے‘ یہ جب تک عوام کے سامنے سزا نہیں پائے گا‘ انصاف کا عمل مکمل نہیں ہوگا‘ حضرت عمرؓ کے احکامات بہت دلچسپ ہوتے تھے‘ یہ جب بھی کسی گورنر یا کسی منتظم کی تنزلی‘ معزولی یا گرفتاری کا حکم جاری کرتے تھے‘ یہ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کسی سیاہ فام غلام کو بھجواتے تھے‘ زیادہ تر کیسز میں یہ ذمے داری حضرت بلال حبشیؓ کو سونپی جاتی تھی‘ خلیفہ کا یہ خصوصی ایلچی جمعہ کے دن وہاں پہنچتا تھا‘ سیدھا جامع مسجد جاتا تھا‘ جمعہ کی نماز ختم ہونے کا انتظار کرتا تھا اور جوں ہی نماز ختم ہوتی تھی‘ یہ کھڑا ہو کر عوام کو خلیفہ کا حکم سناتا تھا‘ لوگوں کے سامنے گورنر‘ سپہ سالار یا منتظم کی پگڑی کھولتا تھا‘ اس کی مشکیں کستا تھا اور اسے گھوڑے پر بٹھا کر مدینہ روانہ ہو جاتا تھا۔
حضرت بلالؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ تک کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا‘ حضرت عمرؓ کے دور میں جب بھی لوگوں کو جمعہ کی نماز میں حضرت بلال حبشیؓ دکھائی دیتے تھے‘ گورنر اور سپہ سالار کی ٹانگیں کانپنے لگتی تھیں اور وہ خود ہی اپنی پگڑی ڈھیلی کر لیتا تھا‘ ہم اگر حضرت عمرؓ کی پوری شخصیت کو ایک لفظ میں واضح کرنا چاہئیں تو وہ لفظ ہو گا ’’عدل‘‘۔ حضرت عمرؓ کی پوری زندگی عدل اور انصاف کے گرد گھومتی ہے‘ آپؓ سے قبل عدل محض عدل تھا لیکن آپؓ نے اسے عدل فاروقی بنا دیا اور دنیا میں آج بھی جہاں پورا انصاف ہوتا ہے لوگ اس انصاف کو ’’عدل فاروقی‘‘ کہتے ہیں‘ آپؓ عدل کے معاملے میں بہت سخت تھے‘ آپؓ نے پوری زندگی اپنے لیے پکا گھر نہیں بنوایا‘ خزانے سے صرف اتنا وظیفہ لیا جس سے ’’شاہی خاندان‘‘ روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھ سکتا تھا‘ آپؓ فاقہ کشی‘ روزوں اور کم خوراکی کی وجہ سے اس قدر کمزور پڑ گئے کہ آپؓ کی پسلیاں تک گنی جا سکتی تھیں‘ غیر ملکی مہمان مسلمانوں کے بادشاہ سے ملاقات کے لیے آتے تھے تو وہ آپؓ کو صحرا کی گرم ریت پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سوتا ہوا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے ‘یہ لوگ آپؓ  کو مدینہ منورہ میں گارڈز یا محافظ کے بغیر پھرتا دیکھتے تھے تو بھی یہ اپنی انگلیاں دانتوں میں داب لیتے تھے‘ آپؓ ایک دن شہر میں اسی طرح محافظوں کے بغیر گشت کر رہے تھے‘ یہ منظر ایک مہمان نے دیکھا تو وہ ڈرتا ڈرتا آپؓ کے پاس آیا اور عرض کیا ’’ آپ محافظوں کے بغیر پھرتے ہیں‘ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا‘‘ حضرت عمر فاروق  ؓ نے فرمایا‘ مجھے لوگوں نے اپنی حفاظت کے لیے منتخب کیا ہے‘ میں جب اپنے لیے محافظ رکھوں گا تو پھر میں لوگوں کا محافظ نہیں رہوں گا‘ محافظ کو محافظ زیب نہیں دیتے‘ وہ شخص خاموش ہو گیا۔
ہم بھی عجیب لوگ ہیں‘ ہم اپنے گرد آباد تمام لوگوں کو حضرت عمر فاروق  ؓ دیکھنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں‘ یہ لوگ حضرت عمر فاروق  ؓکی طرح اپنے بیٹے کو کوڑے بھی ماریں‘ یہ دوسری چادر کا حساب بھی دیں‘ یہ محافظوں کے بغیر دشمنوں کی صفوں میں بھی رہیں‘ یہ غلام کو اونٹ پر بٹھا کر خود نکیل پکڑیں اور اس عالم میں فتح کی دستاویز پر دستخط کے لیے بیت المقدس میں داخل ہوں‘ یہ حکمران ہونے کے باوجود کچے مکان میں رہیں‘ بھیس بدل کر شہر میں گشت کریں‘ کان لگا کر دودھ میں پانی ڈالنے والوں کی گفتگو سنیں‘ دودھ پیتے بچوں کا وظیفہ مقرر کریں‘ درد زہ میں مبتلا خواتین کی ڈیلیوری کے لیے اپنی اہلیہ کو لے کرمسافروں کے خیمے میں چلے جائیں‘ یہ دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتوں کو بھی اپنی ذمے داری سمجھیں اور یہ مصر‘ ایران اور شام کے گورنروں کو بلا کر جانور چرانے پر لگا دیں لیکن جب ہماری باری آئے‘ انصاف کا تیر جب ہماری طرف ہو تو ہم فرعون بن جائیں‘ ہم خود کو (نعوذ باللہ) خدا ڈکلیئر کر کے ہر قسم کے احتساب سے بالاتر ہو جائیں‘ ہم لوگ دوسروں کو ہمیشہ حضرت عمر فاروق  ؓ اور خود کو قیصر روم دیکھنا چاہتے ہیں اور ہمارا یہ رویہ معاشرے میں روز دکھائی دیتا ہے‘ ہم میں ہر شخص روز رومن ایمپائر کا سیزر بن کر گھر سے نکلتا ہے ‘ فرعون کی طرح سورج کو مغرب سے نکالنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دوسروں کو حضرت عمرؓ دیکھنا چاہتا ہے‘ کیوں؟ شاید اس لیے کہ ہم ایک منافق قوم ہیں۔
ہمارے قومی ہیرو (میں ابھی تک انھیں اپنا ہیرو سمجھتا ہوں) چیف جسٹس (سابق) افتخار محمد چوہدری نے اس سلسلے میں تازہ ترین مثال قائم کی‘ یہ اپنی مدت ملازمت کے دوران جنرل پرویز مشرف‘ شوکت عزیز‘یوسف رضا گیلانی‘ راجہ پرویز اشرف اور صدر آصف علی زرداری کو حضرت عمر فاروق  ؓ جیسا حکمران بنانے کی کوشش کرتے رہے‘ یہ انھیں حضرت عمر  فاروق  ؓ کی طرح عدالت میں پیش ہونے‘ اپنی امیونٹی سرینڈر کرنے اور حضرت عمر فاروق  ؓ جیسی سادگی اختیار کرنے کی تلقین کرتے رہے لیکن انھوں نے خود 12 دسمبر کو رخصت ہونے سے قبل حکومت پاکستان سے اپنے لیے بلٹ پروف گاڑی اور سیکیورٹی مانگ لی‘ سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے وزارت داخلہ سے درخواست کی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جان کو خطرہ ہے لہٰذا ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں بلٹ پروف گاڑی بھی فراہم کی جائے اور بھاری سیکیورٹی بھی‘ یہ خط وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تک پہنچا تو انھوں نے نہ صرف یہ درخواست منظور کر لی بلکہ سابق چیف جسٹس کو بلٹ پروف گاڑی اور سیکیورٹی دینے کا حکم بھی جاری کر دیا تاہم موجودہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے چارج سنبھالنے کے بعد یہ درخواست واپس لے لی‘ آپ اندازہ کیجیے‘ ہماری عدلیہ صدر‘ وزیراعظم‘ گورنرز‘ وزراء اعلیٰ اور وفاقی وزراء کی سیکیورٹی کے خلاف ہے‘ یہ سیاستدانوں کو سرکاری رقم سے بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی کو بھی پسند نہیں کرتی‘ پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت سے سیکیورٹی مانگی تو حکومت نے انھیں سیکیورٹی دی اور نہ ہی بلٹ پروف گاڑی‘ صدر سندھ ہائی کورٹ گئے اورانھیں ذاتی بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی گارڈز رکھنے کی اجازت مل گئی مگر حکومت سابق چیف جسٹس کو سرکاری بلٹ پروف گاڑی اور سیکیورٹی دے رہی ہے‘ کیوں؟ یہ لوگ اگر پورے ملک کو حضرت عمر فاروق  ؓ جیسا دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ خود حضرت عمر فاروق  ؓ کیوں نہیں بن رہے؟یہ دوسروں کے ایمان کی پڑتال تو کرتے ہیں مگر اپنے ایمان کو کسوٹی پر چڑھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ملک میں اگر کوئی عام شہری اپنی ذاتی جیب سے پورا ٹیکس‘ پوری ڈیوٹی ادا کر کے بلٹ پروف گاڑی امپورٹ کرنا چاہے تو یہ وزارت داخلہ کے این او سی کا محتاج ہوتا ہے‘ یہ درخواست جمع کراتا ہے‘ ایف آئی اے‘ آئی بی اور آئی ایس آئی اس شہری کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ تیار کرتی ہے‘ یہ رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع ہوتی ہے لیکن ان تمام ایجنسیوں کی کلیئرنس کے باوجود اس شہری کو بلٹ پروف گاڑی منگوانے کی اجازت نہیں ملتی‘ یہ فیصلہ بالآخر وزیرداخلہ خود کرتے ہیں‘ چوہدری نثار نے قلم دان سنبھالنے کے بعد بلٹ پروف گاڑیوں کے اجازت ناموں کی فائل اپنی تحویل میں لے لی ہے‘ یہ کسی شخص کو بلٹ پروف گاڑی امپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے لیکن آپ دوسری طرف ان کی مہربانی ملاحظہ کیجیے‘یہ سابق صدر کو سیکیورٹی‘ پروٹوکول اور بلٹ پروف گاڑی نہیں دے رہے مگر یہ سابق چیف جسٹس کو فوراً سرکاری بلٹ پروف گاڑی بھی الاٹ کر دیتے ہیں اور سیکیورٹی اور پروٹوکول کا حکم بھی جاری کر دیتے ہیں‘ کیوں؟ آصف علی زرداری کیوں نہیں؟ اور افتخار محمد چوہدری کیوں؟ کیا اس ملک میں کوئی شخص اس کیوں کا جواب دے گا اور ہم کب تک سیزر کے تخت پر بیٹھ کر دوسروں کے حضرت عمر فاروق  ؓبننے کا انتظار کرتے رہیں گے‘ آخرکب تک؟۔

Post a Comment