Wednesday, January 15, 2014

Baqi Aap Baadshah hain by Javed Chaudry

Interesting ....

باقی آپ بادشاہ ہیں

ہم ہنگو کے اعتزاز حسن کی طرف جانے سے پہلے نیو یارک کے ایک گم نام شہری کی بات کرتے ہیں‘ آپ کو اس گم نام نیویارکر اور پاکستان کے اعتزاز حسن میں بے شمار باتیں مشترک نظرآئیں گی‘ آپ کو یاد ہو گا 1980ء اور1990ء کی دہائی میں نیویارک دنیا کے بدامن ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا‘ شہر پر مافیاز کا قبضہ تھا‘ گلی گلی میں گینگ بنے تھے‘ یہ گینگ موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر شہر میں نکلتے تھے اور راستے میں ہر شخص کو لوٹ لیتے تھے‘ شہر میں ڈرگس عام تھیں‘ قتل و غارت گری‘ اغواء برائے تاوان‘ عصمت دری‘ عصمت فروشی اور فراڈ معمول تھا.
نیویارک شہر سے ہر روز تیس چالیس لاشیں نکلتی تھیں اور یہ لوگ عموماً ڈکیتی کے دوران مارے جاتے تھے‘ شہر میں خوف کی یہ صورتحال تھی کہ لوگ شام چھ بجے کے بعد گھروں سے نہیں نکلتے تھے‘ پورے شہر میں جرائم پیشہ افراد کی حکومت تھی‘ سرمایہ کار شہر سے بھاگ رہے تھے‘ لوگ گھروں اور دکانوں میں پرائیویٹ گارڈز رکھنے پر مجبور تھے‘ پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیوں کا رجحان اسی دور میں شروع ہوا ‘ گینگسٹر سڑک پر چلتے لوگوں‘ ٹرین‘بس اور ٹیکسی سے اترتے مسافروں کو لوٹ لیتے تھے اور جاتے جاتے اس کے سر میں راڈ بھی مار دیتے تھے۔
ٹیکسی ڈرائیور مسافروں کو لوٹ لیتے تھے اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو ڈاکو فارغ کر دیتے تھے‘ خواتین میٹرو اسٹیشن‘ بس اسٹاپ اور اسپتالوں میں ’’ریپ‘‘ ہو جاتی تھیں‘ مافیاز نے اپنی جڑیں پولیس‘ جسٹس ڈیپارٹمنٹ‘ کانگریس اور وال اسٹریٹ تک پھیلا لی تھیں‘ یہ بڑی بڑی کمپنیاں بنا کر بیٹھ گئے تھے‘ سرمایہ وال اسٹریٹ میں لگایا جاتا تھا‘ وہاں سٹہ ہوتا اور رقم چار پانچ گنا ہو جاتی تھی‘ تھانے‘ عدالتیں اور جیلیں بیچی اور خریدی جاتی تھیں‘ مافیاز مخالفین کو جیلوں کے اندر مروا دیتے تھے‘ نیویارک میں اس دور میں ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں لوگوں کو ایک سگریٹ اور استعمال شدہ لپ سٹک کے لیے قتل کر دیا گیا اور کوئی ان کی لاش اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا‘ حکومت ناکام ہو گئی‘ عدلیہ بے بس ہو گئی اور پولیس نے لاچاری کا اظہار کر دیا‘ یہ صورتحال 1991ء تک جاری رہی یہاں تک کہ نیویارک میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور صورتحال بدل گئی۔
نیویارک کا ایک عام شہری رات کی آخری میٹرو میں سوار تھا‘ اس کے ڈبے میں چند اور لوگ بھی بیٹھے تھے‘ اچانک ایک سیاہ فام نوجوان اپنی جگہ سے اٹھا‘ جیب سے ریوالور نکالا‘ ڈبے میں سوار لوگوں کی طرف لہرایا اور جیبیں خالی کرنے کا حکم دے دیا‘ لوگوں نے جیبوں سے پرس نکالے اور اس کے حوالے کر دیے‘ وہ اس شخص کے پاس پہنچ گیا‘ وہ بھی پرس ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھا تھا‘ ڈاکو اس کے قریب آیا‘ اس سے پرس لیا‘ پرس کھولا تو اس میں صرف تیس ڈالر تھے‘ ڈاکو نے پرس اس کے منہ پر مارا اور گالیاں دینا شروع کر دیں‘ وہ حالات کا مارا پریشان حال شخص تھا۔
وہ یہ گالیاں برداشت نہ کر سکا‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھا‘ کالے کو پکڑا اور پھینٹنا شروع کر دیا‘ یہ سیاہ فام ڈاکو کے لیے حیران کن صورتحال تھی‘ نیویارکر نے سیاہ فام کی ٹھیک ٹھاک پھینٹی لگائی‘ ٹرین کا دروازہ توڑا اور ڈاکو کو نیچے پھینک دیا‘ ڈبے میں سوار لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے‘ وہ شخص ٹرین سے اترا تو اسے صحافیوں نے گھیر لیا‘ اس سے پوچھا گیا ’’ کیا تمہیں ڈاکو سے ڈر نہیں لگا‘‘ اس نے انکار میں سر ہلایا اور جواب دیا ’’ میں ڈر ڈر کر تھک گیا ہوں‘ میں مزید کتنا خوفزدہ ہوتا‘‘ یہ واقعہ نیویارک کی نفسیات کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا‘ لوگوں کو محسوس ہوا‘ گینگسٹر بھی عام انسان ہیں‘ ان سے لڑا بھی جا سکتا ہے اور مارا بھی ‘ لوگ اس واقعے سے نڈر ہو گئے اور یہ بے خوف ہو کر گلیوں میں پھرنے لگے‘ یہ مافیاز اور گینگسٹرز سے لڑنے اور بھڑنے بھی لگے۔
یہ تبدیلی بظاہر بہت اچھی تھی‘ عوام کو بے خوف ہونا چاہیے‘ عوام جب تک اپنے حقوق کے لیے کھڑے نہیں ہوتے‘ یہ جب تک لڑتے نہیں ہیں‘ یہ اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ مگر امریکی حکومت کا رد عمل بالکل مختلف ہوا‘ وہ رد عمل کیا تھا‘ ہم اس طرف آنے سے قبل امریکی معاشرے کا ایک اور پہلو بھی ڈسکس کرتے ہیں‘ دنیا میں سب سے زیادہ نفسیات دان‘ نفسیاتی تجزیہ کار اور نفسیاتی فلاسفر امریکا میں ہیں‘ حکومت اپنی زیادہ تر پالیسیاں ان کے مشورے سے بناتی ہے‘ یہ لوگ سوشل سائیکالوجسٹ‘ پولیٹیکل سائیکالوجسٹ اور ماب سائیکالوجسٹ کہلاتے ہیں‘ نیویارک کا یہ واقعہ جوں ہی سامنے آیا‘ امریکا کے اعلیٰ ترین نفسیات دانوں نے حکومت کو فوراً وارننگ دے دی‘ نفسیات دانوں کی متفقہ رائے تھی‘ یہ ایک واقعہ پورے امریکا کو تباہ کر دے گا‘ حکومت نے اگر اس واقعہ کا نوٹس نہ لیا تو یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکا دس برسوں میں پچاس ملک بن جائے گا۔
نفسیات دانوں کا کہنا تھا‘ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے‘ وہ کام جو نیویارک کا پولیس ڈیپارٹمنٹ‘ جوڈیشل سسٹم اور میٹرو پولیٹن گورنمنٹ نہیں کر سکی وہ کام ایک نہتے نیویارکر نے کر دیا‘ گویا ایک تنہا شخص پورے نظام پر بھاری ہے‘ حکومت نے اگر سنجیدگی نہ دکھائی تو یہ شخص ہیرو بن جائے گا‘گلی گلی میں اس جیسے نڈر لوگ پیدا ہوں گے‘ لوگ ان کی تقلید کریں گے‘ یہ گلیوں‘ چوکوں اور بازاروں میں اپنی عدالتیں لگائیں گے‘ مجرم کو پکڑیں گے‘ انھیں سر عام سزا دیں گے‘ یوں ملک میں بغاوت پھیل جائے گی اور اس بغاوت کے آخر میں امریکا ٹوٹ جائے گا‘ نفسیات دانوں کا تجزیہ تھا‘ حکومت کو فوراً نیویارک پر توجہ دینی چاہیے‘ نیویارک میں بڑے پیمانے پر جرائم کی بیخ کنی ہونی چاہیے تا کہ عوام کو یہ پیغام پہنچ سکے کہ اسٹیٹ‘ اسٹیٹ ہوتی ہے اور عام شخص خواہ کتنا ہی مضبوط‘ کتنا ہی بے خوف کیوں نہ ہو جائے‘ یہ اسٹیٹ کا متبادل نہیں ہو سکتا‘ یہ نقطہ حکومت کی سمجھ میں آ گیا۔
واشنگٹن متحرک ہوا‘ امریکا کے ماہر ترین پولیس افسروں کو نیویارک میں تعینات کیا گیا‘ولیم بریٹن کو سٹی ٹرانزٹ پولیس کا چیف لگا دیا گیا‘ حکومت نے ادارے کو فنڈز دیے‘ ججوں کو مزید فعال بنایاگیا‘جاسوسی کا نظام وسیع کیا گیا‘ سیٹلائٹ کی مدد لی گئی‘ اسلحہ اور ڈرگ ڈیلرز کا پیچھا کیا گیا‘ ٹرین‘ بس اورٹیکسیوں کا سسٹم بدل دیا گیا‘ ٹرینوں کے تمام ڈبوں میں سفید کپڑوں میں ملبوس لوگ بٹھائے گئے‘ ’’بلیک منی‘‘ کے راستے روکے گئے اور قانون کی عملداری پر توجہ دی گئی‘ ان اقدامات کے نتیجے میں نیویارک چار سال میں ’’کلین‘‘ ہو گیا‘1994ء میں ولیم بریٹن کو نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کمشنر مقرر کر دیا گیا‘ قتل و غارت گری رک گئی‘ ڈکیتیاں ختم ہو گئیں‘ عصمت دری اور لوٹ مار بھی دم توڑ گئی اور اسلحے اور ڈرگس کی تجارت بھی بند ہو گئی‘1994ء سے جرائم کی شرح میں ہر سال کمی واقع ہو رہی ہے اور 2012ء میں یہ کم ترین سطح پر تھی‘ یہ ماڈل اس قدر کامیاب تھا کہ اگست 2011ء کو جب لندن میں فسادات پھوٹ پڑے اور پانچ دن میں سیکڑوں دکانیں ‘ گھر اور گاڑیاں جلادی گئیں تو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے نیویارک سے یہ ماڈل منگوایا‘ ولیم بریٹن کو نیویارک سے بلوا کر اپنا مشیر بنایا اور لندن میں بھی نیویارک کی طرز پر کام شروع کر دیا۔
ہنگو کے 15 سالہ بچے اعتزاز حسن نے کمال کر دیا‘ یہ بچہ جرأت‘ بہادری اور بے خوفی کی عظیم علامت ثابت ہوا‘ خوف کے شکار اس معاشرے جس میں لوگ اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں‘ اس معاشرے میں اعتزاز نے 6 جنوری کو خودکش حملہ آور کو اپنے اسکول میں داخل ہوتے دیکھا‘ اس نے اسے روکنے کی کوشش کی‘ وہ نہ رکا تو یہ اس کے ساتھ لپٹ گیا‘ خود کش حملہ آور نے بم کا بٹن دبا دیا اور یوں اعتزاز حسن شہید ہو گیا‘ یہ 15 سال کا بچہ اس وقت ملک اور بیرون ملک مشہور ہو چکا ہے‘ وفاقی حکومت نے اس کے لیے ستارہ شجاعت کا اعلان کر دیا جب کہ صوبائی حکومت اس کے لواحقین کو 50 لاکھ روپے دے گی‘ یہ بچہ دہشت گردی کے خلاف پندرہ سالہ جنگ میں عوامی جرأت کا پہلا ’’سمبل‘‘ ہے‘ میں اس بچے کی جرأت کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن جس دن یہ واقعہ پیش آیا‘ میں اس دن پاکستان کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہو گیا۔
یہ بچہ ملک کے عوام اور بچوں دونوں کا ہیرو بن چکا ہے اور عوام نے اگر اعتزاز حسن کی تقلید شروع کر دی‘ یہ اگر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہو گئے تو آپ خود سوچئے اس ملک میں کیا ہو گا؟ لوگ خود ہی دہشت گردوں کا فیصلہ کریں گے اور اس فیصلے کو قانون اور عدالت کا درجہ دے کر مجرموں کو سر عام پھانسیاں دیں گے‘ عوامی انصاف کو دہشت گردی سے فرقہ واریت پر شفٹ ہوتے دیر نہیں لگے گی‘ یہ انصاف وہاں سے سرکاری اداروں‘ کرپٹ افسروں‘ پولیس اور بے ایمان ججوں تک جائے گا اور ریاست اس دوران مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
اعتزاز حسن عوامی انقلاب بلکہ خانہ جنگی کی پہلی سیٹی تھا‘ میری حکومت سے درخواست ہے آپ اعتزاز حسن کو ملک میں مثال نہ بننے دیں‘ آپ فوج‘ رینجرز‘ پولیس اور عدلیہ کے اداروں کو ایکٹو کریں‘ نیویارک جیسی کارآمد پالیسی بنائیں اور وقت ضایع کیے بغیر اس پر کام شروع کر دیں‘ یہ ملک آپ کا ہے‘ آپ اگر لندن‘ پیرس یا نیویارک میں ہوتے تو یقین کیجیے آپ اتنے چھوٹے ’’آئی کیو لیول‘‘ کے ساتھ وہاں کونسلر منتخب نہیں ہو سکتے تھے‘ آپ دنیا کے کسی اچھے ملک میں  آئی جی اور وزیر نہیں بن سکتے‘ یہ اس ملک کا احسان ہے‘ آپ کو اس نے عزت بھی دی‘ اختیار بھی اور اقتدار بھی‘ آپ نے اگر اس احسان کا بدلہ نہ اتارا تو مجھے خطرہ ہے‘ آپ میں سے آدھے ہنگاموں میں مارے جائیں گے اور باقی لوگ مہاجر بن کر زندگی گزاریں گے‘ اعتزاز حسن خانہ جنگی کی علامت ہے‘ آپ اسے اتنا ہی سیریس لیں جتنا آپ اپنی ذات‘ اپنے اثاثوں اور اپنے بچوں کے اثاثوں کو لیتے ہیں‘ آپ نے اس چنگاری کو سنجیدہ نہ لیا تو یہ سفیدے کے اس جنگل کو دو ماہ میں راکھ بنا دے گی‘ باقی آپ کی مرضی ہے‘ آپ بادشاہ ہیں

Post a Comment