Monday, August 19, 2013

Sikandar is Innocent

Javed Ch terrorists ko Tareeqay btatey huwai :D
’اولمپس ہیز فالن‘‘ ہالی ووڈ کی ایک شاندار فلم ہے‘ یہ فلم وائٹ ہاؤس پر قبضے کے موضوع پر بنائی گئی‘ فلم میں دکھایاگیا ‘ کوریا کے وزیراعظم امریکی صدر سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس آتے ہیں‘ وائٹ ہاؤس پر اچانک فضائی حملہ ہو جاتا ہے‘ صدر کا سیکیورٹی اسٹاف امریکی صدر‘ مہمان وزیراعظم اور کوریائی وفد کو وائٹ ہاؤس کے جوہری بم پروف مورچے میں شفٹ کر دیتا ہے‘ کوریا کا وزیراعظم جوہری مورچے میں پہنچتے ہی جیب سے ریوالور نکال لیتا ہے‘ اس کے اسٹاف اور وفد میں شامل لوگ بھی اسلحہ نکالتے ہیں‘ صدر کے باڈی گارڈز کو گولی مارتے ہیں اور وائٹ ہاؤس کے انتہائی حساس مقام پر قبضہ کر لیتے ہیں‘ یہ لوگ امریکی صدر اور اہم ترین وزراء کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی کوریائی وزیراعظم کے موٹر کیڈ سے مسلح کمانڈوز نکلتے ہیں اور یہ وائٹ ہاؤس پر فائرنگ شروع کر دیتے ہیں‘ واشنگٹن کی گلیوں سے ہیوی ٹرکس نکلتے ہیں اور یہ بھی وائٹ ہاؤس پرحملہ آور ہو جاتے ہیں اور یوں چند لمحوں میں امریکا کی طاقت کا محور وائٹ ہاؤس ملبے کا ڈھیر بن جاتا ہے‘ ادھر دہشت گرد صدر اور وزیر دفاع سے جوہری ہتھیاروں کے کوڈز حاصل کر لیتے ہیں اور یوں پوری دنیا جوہری خطرات کا شکار ہو جاتی ہے‘ اس فلم میں مزید کیا ہوتا ہے؟ یہ زیادہ ضروری نہیں کیونکہ اس فلم کا انجام بھی عام فلموں کی طرح ہوتا ہے‘ یہ بحران ہیرو کو جنم دیتا ہے‘ یہ ہیرو زمرد خان کی طرح تنہا دہشت گردوں سے ٹکراتا ہے اور ہیرو آخر میں جیت جاتا ہے مگر یہ فلم روایتی اختتام کے باوجود شاندار ہے‘ یہ ناظر کی توجہ کو مقناطیس کی طرح جکڑ لیتی ہے۔
ہم لوگ جس وقت سکندر کے ڈرامے کو بلیو ایریا کی سڑک پرپروان چڑھتا دیکھ رہے تھے ‘مجھے اس وقت ’’اولمپس ہیز فالن‘‘ یاد آ رہی تھی اور ایک سوال بار بار سر اٹھا رہا تھا‘ یہ شخص اگر بلیو ایریا تک پہنچ سکتا تھا اور وفاقی دارالحکومت کو دو رائفلوں کے ذریعے یرغمال بنا سکتا تھا تو کیا چار ‘پانچ یا دس مسلح لوگ ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس یا پارلیمنٹ پر قبضہ نہیں کر سکتے اور اگرایسا ہو جائے تو کیا ہماری وہ پولیس جو 15 اگست کو سکندر سے نہیں نمٹ سکی یا ہمارے وہ سیکیورٹی ادارے جو آج تک جی ایچ کیو‘ مہران بیس‘ کامرہ ائیر بیس اور دو مئی کے واقعات کا کوئی ٹھوس جواب نہیں دے سکے یہ اس نوعیت کا قبضہ چھڑا لیں گے؟ اور اگر چھڑا لیا تو اس میں کتنا وقت لگ جائے گا؟ ہماری سیکیورٹی کا یہ عالم ہے پارلیمنٹ ہاؤس‘ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے نیچے سے نالے گزرتے ہیں اور آج تک کسی نے ان نالوں کی حفاظت کے لیے کوئی بندوبست نہیں کیا۔
یہ دہشت گردوں کی مہربانی ہے آج تک انھوں نے ان نالوں پر توجہ نہیں دی‘ وزیراعظم اور صدر کی آمد و رفت کے دوران ہر روٹ پر 175 پولیس اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں‘ ان اہلکاروں نے کندھوں پر رائفلیں بھی لٹکا رکھی ہوتی ہیں لیکن ان کے پاس گولیاں نہیں ہوتیں‘ اگر ہوتی ہیں تو یہ دس دس سال پرانی ہیں اور کسی نے آج تک انھیں ٹیسٹ نہیں کیا‘ یہ رائفلیں بھی ٹیسٹ شدہ نہیں ہیں اور اگر ہوئی ہیں تو سوال یہ ہے کیا ان اہلکاروں کو رائفل چلانی بھی آتی ہے؟ جی نہیں ان میں سے کسی شخص کے پاس شوٹنگ سر ٹیفکیٹ نہیں‘آپ کو یقین نہ آئے تو آج چیک کر لیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے یہ صرف نمائشی سپاہی ہیں اور ان کی اہلیت وردی اور سیلوٹ کے بعد دم توڑ جاتی ہے۔
آپ وی آئی پی روٹ کا جغرافیائی جائزہ بھی لے لیجیے‘ میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد مری جانے والا راستہ بھی وی آئی پی روٹ بن چکا ہے‘ میاں نواز شریف اکثر اسلام آباد سے مری چلے جاتے ہیں‘ ان کے راستے میں بھی پولیس اہلکار کھڑے ہوتے ہیں لیکن وزیراعظم کے سیکیورٹی اسٹاف نے کبھی ان اہلکاروں سے آگے جھانک کر نہیں دیکھا‘ وزیراعظم کے راستے میں بھنگ کے آٹھ آٹھ فٹ اونچے پودوں کا پورا جنگل ہے‘ راستے میں جھاڑیاں اور درخت بھی ہیں ‘ بھنگ اور جھاڑیوں کے ان جنگلوں میں بیسیوں توپیں چھپائی جا سکتی ہیں اور اگر خدانخواستہ کسی سکندر نے بھنگ کے ان قدرتی مورچوں کے استعمال کا فیصلہ کر لیا تو ہم دنیا میں کس کس کو منہ دکھائیں گے؟ یہ حقیقت ہے اسلام آباد پولیس کے پاس شارپ شوٹرز یا اسنائپرز نہیں ہیں۔
پولیس تو رہی ایک طرف ہمارے چڑیا گھر تک میں اسٹن گن (بے ہوش کرنے والی رائفل) نہیں‘ سکندر انسان تھا‘ کل اگرچڑیا گھر کا کوئی شیر یا چیتا شہر میں نکل آیا تو ریاست تماشہ دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکے گی‘ اداورں کے درمیان کوآرڈینیشن بھی موجود نہیں‘ ایس ایس پی آئی جی کی طرف دیکھتا رہا‘ آئی جی چیف کمشنر کے حکم کا منتظر رہا‘ چیف کمشنر وزیر داخلہ کے احکامات کا منتظر رہا اور وزیر داخلہ فوج کو بلائیں یا نہ بلائیں کے مخمصے کا شکار رہے‘ کیا سکندر کو گرفتار کرنے کے لیے اتنے لمبے چوڑے بیورو کریٹک پراسیس کی ضرورت تھی؟ یہ مسئلہ کو ہسار تھانے کے لیول پر حل ہو جانا چاہیے تھا لیکن کیونکہ ہم نے آج تک کسی کو اختیار نہیں دیا چنانچہ سکندر کا ایشو براہ راست وزیراعظم تک چلا گیا اور وزیراعظم نے احکامات جاری نہیں کیے چنانچہ ڈرامہ طول پکڑتا رہا اور آخر میں یہ ایشو بھی میڈیا کے گلے میں ڈال دیا گیا۔
ملک کے سینئر صحافی میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق کے متمنی ہیں‘ میڈیا کو بھی قانون اور ضابطے کا پابند ہونا چاہیے‘ہم سب یہ چاہتے ہیں مگر یہ کرے گا کون؟ اس کا جواب کون دے گا؟ میں 15 اگست کی رات خود ’’موقع واردات‘‘ پر گیا تھا‘ میں نے وہاں پولیس کے کردار کو بھی سراہا اور میڈیا کے کارکنوں سے بھی کیمرے پیچھے لے جانے اور اپنی حفاظت کا خیال رکھنے کی درخواست کی اور ان لوگوں نے میری بات پر عمل بھی کیا‘ میں نے پولیس سے سکندر ملک سے ملاقات کی درخواست بھی کی مگرایس پی نے انکار کر دیا اور میں نے اس حکم پر عمل بھی کیا‘میں15 اگست کی رات آن ائیر میڈیا کے کردار تنقیدکرتا رہا مگر پھرپروگرام کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ مجھے کسی اجنبی نمبر سے ایک ایس ایم ایس آیا‘ سکندر اور اس کی بیگم سرینڈر کرنے کے لیے تیار ہیں مگر یہ گارنٹی چاہتے ہیں‘ میں نے ایس ایم ایس کرنے والے سے کنول اور سکندر کا ڈائریکٹ نمبر مانگا‘ مجھے نمبر مل گیا‘ میرے پروڈیوسر نے کال ملا دی اور یوں ہمارا کنول اور سکندر سے رابطہ ہو گیا‘ ہماری یہ گفتگو لائیو چلتی رہی‘ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کنول اور سکندر ذہنی لحاظ سے بیلنس نہیں ہیں‘ ان کی بات میں ربط اور تسلسل بھی نہیں تھا اور یہ اپنے اس اقدام کا کوئی ٹھوس جواز بھی پیش نہیں کر پائے تھے‘ یہ اسلام نافذ کرنا چاہتے تھے‘ حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے اور اقلیتوں کو حقوق دلانا چاہتے تھے لیکن یہ ہوگا کیسے؟
ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا‘ میں نے دونوں کو دو آپشن دیے‘ ہمارے پاس وفاقی وزیر خرم دستگیر موجود ہیں‘ آپ ان کی گارنٹی لے سکتے ہیں اور ہم اس گارنٹی پر عمل کروائیں گے‘ دوسرا آپ اٹھارہ کروڑ لوگوں میں سے کسی شخص کا نام لیں ہم وہ شخص آپ کے پاس لے آتے ہیں مگر ان کا کہنا تھا ہمارے لیے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی گارنٹی کافی ہے‘ انھوں نے انکشاف کیا ‘ڈاکٹر رضوان مذاکرات کے لیے کسی جگہ کا بندوبست کر رہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ اس جگہ چلے جائیں گے‘ یہ بات ابھی جاری تھی کہ زمرد خان ان تک پہنچ گئے‘ سکندر نے فون بند کیا ‘ یہ گاڑی سے باہر نکلا اور ہمارے ساتھ اس کی گفتگو کے تین منٹ بعد یہ واقعہ پیش آ گیا‘ میڈیا کو اس واقعے کو ہائپ نہیں دینی چاہیے تھی اور ہمیں بھی ان دونوں کو ٹیلی فون پر نہیں لینا چاہیے تھا لیکن کیا صرف میڈیا نے غلط کیا؟ جی نہیں!
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 16 اگست کی شام پریس کانفرنس میں اعتراف کیا اس واقعے کی طوالت کے دو ذمے دار ہیں‘ میں (وزیر داخلہ) اور میڈیا‘ چوہدری صاحب نے پریس کانفرنس میں اپنی ذمے داری بھی قبول کی مگر حکومت کی بے انصافی دیکھئے یہ میڈیا کو تو نوٹس جاری کر رہی ہے مگر وزیر داخلہ چوہدری نثار سے کوئی نہیں پوچھ رہا‘ آپ پولیس چیف کیوں بن گئے اور آپ نے اپنے مورچے میں بیٹھ کر پولیس کو غیر دانشمندانہ احکامات کیوں جاری کیے تھے‘ آپ نے پولیس کو اپنا کام کیوں نہیں کرنے دیا اور آپ نے اگر ذمے داری قبول کرلی ہے تو کیا آپ کا اعتراف کافی ہے؟ کیا آپ کو غیر دانش مندانہ اقدام کی کوئی سزا نہیں ملنی چاہیے اور اگر اعتراف ہی سزا ہے تو پھر ہم بھی اپنی غلطی مان لیتے ہیں‘ معاملے کو مس ہینڈل کرنے والے پولیس اہلکار بھی اپنی غلطی تسلیم کر لیتے ہیں اور سکندر اور کنول بھی اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں اور آپ ان تمام کرداروں کو بھی چوہدری نثار کی طرح باعزت معافی دے دیں‘ یہ کیا انصاف ہے چوہدری نثار غلطی کے اعتراف کے باوجود وزیر داخلہ ہیں مگر شریک جرم میڈیا‘ سکندر ‘ کنول اور پولیس کو سزا دی جا رہی ہے اور عوام کے ہیرو زمرد خان کو برا بھلا کہا جا رہا ہے‘ یہ انصاف ہے تو پھر ہم اس انصاف کو نہیں مانتے‘ آپ تمام شرکاء جرم کا احتساب کریں بشمول وزیرداخلہ ‘ یہ ڈرامہ ان کی غلطی سے طویل ہوا تھا اور اگر آپ چوہدری نثار کو ’’اعتراف جرم‘‘ کے باوجود معاف کر دیتے ہیں تو پھر سکندر اور کنول کو بھی چھوڑ دیں کیونکہ پھر یہ معصوم ہیں۔

Post a Comment